’بلوچستان میں جنگ کی کیفیت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت جنگ کی کیفیت ہے اور بلوچستان کے علاقے کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی کے نتیجے میں عام شہری ہلاک و زخمی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ اس کے علاوہ کمیشن کا کہنا ہے کہ ان علاقوں کی آبادیوں پر بلا امتیاز فائرنگ کے علاوہ جہازوں کے ذریعے بمباری بھی کی گئی ہے۔ ایچ آر سی پی نے آج اسلام آباد میں بلوچستان کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے عوام خصوصاً ڈیرہ بگٹی کے رہائشیوں میں سخت خوف ہراس پھیل گیا ہے اور اس علاقے کی پچاسی فی صد آبادی نقل مکانی کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ کمیشن نے بگٹی قبائل کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں اکتیس دسمبر سے ابتک چھتیس افراد فوجی کارروائی کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہے تر خواتین اور بچے ہیں۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس بلوچستان میں فریقین کو فوراً جنگ بندی کا اعلان کرنا چاہیے اور حکومت کو اس معاملے کے حل کے لئے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلا کر صوبے کو خود مختاری دینے اور لوگوں کے حقوق کے بارے میں فیصلہ کیا جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صوبے سے فوج کم کرنے کے بارے میں بھی اعلان ہونا چاہیے جس میں وقت کا تعین بھی شامل ہو۔کمیشن کے مطابق بلوچستان کی مقامی آبادی میں فوج کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایچ آر سی پی نے الزام لگایا ہے کہ اس بات کا ٹھوس ثبوت ملا ہے کہ بلوچستان میں نیم فوجی دستوں کی طرف سے مبینہ طور پر بغیر کسی قانونی کارروائی کے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ماورائے عدالت قتل کے الزامات کی تحقیقیات کے لئے اعلی سطح پر ایک انکوائری کروائی جائے۔ کمیشن نے بلوچ ہتھیار بندوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ علاقے میں بارودی سرنگیں نہ بچھائیں اور علاقے میں امن کے قیام میں مدد دیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چار ہزار سے زائد افراد کو ابتک گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان کے بارے میں کسی کو نہیں پتہ کہ وہ کس جرم کے تحت گرفتار کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں گزشتہ برس مارچ میں ڈیرہ بگٹی میں نیم فوجی دستوں کی کارروائی کے نتیجے میں مارے جانے والے چالیس ہندوؤں کے کوائف بھی دیے گئے ہیں۔مارے جانے والے ہندوؤں میں کمیشن کے مطابق انیس بچے اور تین خواتین بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد علاقے سے دو سو پچاس ہندہ خاندان نقل مکانی کر گئے ہیں۔اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی طرف سے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور کئی افراد ابھی تک لاپتہ پیں جن کے بارے میں خیال یہی ہے کہ وہ خفیہ ایجنسیوں کی حراست میں ہیں۔ | اسی بارے میں ایف سی اور مری قبائل میں جھڑپیں18 January, 2006 | پاکستان بلوچستان میں جھڑپیں اور دھماکے20 January, 2006 | پاکستان بلوچ قوم پرستوں کو وارننگ 20 January, 2006 | پاکستان وفاق،صوبوں میں وسائل کی تقسیم 20 January, 2006 | پاکستان کوہلو: کیا ہورہا ہے، کیوں ہورہا ہے؟21 January, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی میں انیس افراد ہلاک21 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||