BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 January, 2006, 15:00 GMT 20:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرہ بگٹی میں انیس افراد ہلاک

فوجی آپریشن کے خلاف پاکستان میں کئی مظاہرے ہوئے ہیں
بلوچستان کےشہر ڈیرہ بگٹی میں سنیچر کے روز بھی شدید گولہ باری کی گئی ہے اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دو روز میں انیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جمہوری وطن پارٹی کے لیڈر شاہد بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ اکیس دنوں میں پینسٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن اس کی تصدیق سرکاری سطح پر نہیں ہوئی ہے۔

ڈیرہ بگٹی سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ سنیچر کی صبح سے شروع ہوا لیکن دوپہر کے بعد گولہ باری شدت اختیار کرگئی اور یہ اندازہ نہیں ہو پارہا تھا کہ گولے کس طرف سے آرہے تھے۔ جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی کا محافط کہلوانے والے ایک شخص دل مراد نے کہا ہے کہ ایف سی کے اہلکار دور بیٹھ کر گولہ باری کر رہے ہیں۔

ایک شہری ذوالفقار پچوا نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی بمباری سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ان کے پاس صرف انیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جن میں چار بچے بھی شامل ہیں جو ایک ٹینک سے پانی بھرتے وقت اس وقت ہلاک ہوگئے جب ایک بارود کا گولہ ان کے قریب گرا۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت بھی چھ لاشیں ان کے سامنے پڑی ہوئی ہیں جنہیں شدید گولہ باری کی وجہ سے دفنانے کا موقع بھی نہیں مل رہا ہے۔

ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ ہفتے کے دن میں ایف سی کی تنصیبات پر پانچ سو راکٹ داغے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین بجے کے بعد سے جھڑپوں میں شدت آئی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان حملوں سے ایف سی قلعے کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے اور ہیلی کاپٹروں کے لیے موجود تیل کو آگ لگ گئی ہے۔ انہوں کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے اور ادھر مسلح بگٹی قبائل کے نقصان کے بارے میں انہیں علم نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ بے گناہ شہریوں کی کوئی ہلاکت نہیں ہوئی کیونکہ وہاں سے تمام شہری نقل مکانی کر چکے ہیں۔

جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ صرف ڈیرہ بگٹی میں تیس دسمبر سے بیس جنوری تک سیکیورٹی فورسز کی گولہ باری سے پینسٹھ افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ جمعہ کی شب نوشکی میں ریل کی پٹری کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا ہے جبکہ خضدار اور وڈھ میں دھماکے ہوئے ہیں لیکن اس سے کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اسی بارے میں
بلوچ قوم پرستوں کو وارننگ
20 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد