بلوچ آپریشن: ہزارہ برادری کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں جاری مبینہ فوجی آپریشن بند کرنے کے لیے کوئٹہ میں رہائش پذیر ہزارہ برادری کے افراد نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ہزارہ برادری کے کچھ افراد نے اپنی برادری کی بنیاد پر احتجاجی جلوس نکالا اور بلوچستان کے قوم پرستوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر ان کے حق میں احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین نے اس موقع پر صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعلیٰ جام یوسف کے خلاف نعرے لگائے اور ان کی پالیسیوں کو مسترد کیا۔ مظاہرے میں زیادہ تر نوجوان اور کچھ بزرگ بھی شامل تھے۔ مظاہرین نے سیاہ پرچم لہرائے اور ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے۔ جن پر فوجی آپریشن بند کریں اور بلوچستان کے عوام کو روزگار دیں جیسے مطالبے بھی لکھے تھے۔
ہزارہ برادری کے ایک لاکھ سے زیادہ لوگ کوئٹہ کے گرد و نواح میں رہتے ہیں لیکن مظاہرے کے شرکاء کی تعداد دو درجن کے لگ بھگ تھی۔ لیکن سیاسی تجزیہ کار ان کے اس مظاہرے کو خاصی اہمیت دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ پشتونوں کے بعد ہزارہ برادری کی جانب سے بلوچوں کی حمایت سے چھوٹے لسانی گروپ بھی ان کی حمایت کرسکتے ہیں جس سے بلوچوں کے موقف کو تقویت مل سکتی۔ مظاہرے کے شرکا سے ان کی برادری کے طاہر ہزارہ اور علی رضا منگول سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ اگر حکمران چاہتے ہیں کہ دوبارہ ملک ٹوٹے تو پھر بیشک فوجی آپریشن جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ ایجنسی میں امریکی فوج کے حملے پر حکومت مذمت نہیں کرسکتی جہاں غیر ملک سے حملہ کیا گیا۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||