کوئٹہ میں یو این کے دفاتر بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے حفاظتی اقدامات کے پیش نظر پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اپنے مختلف اداروں کے دفاتر اڑتالیس گھنٹے کے لیے بند کر دیے ہیں۔ پناہ گزینوں کے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کی ترجمان ویوین کین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ سکیورٹی کی وجہ سے فی الحال منگل اور بدھ کے روز عملے کو دفاتر میں نہ آنے کا کہا گیا ہے۔ ان کے مطابق صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد وہ بعد دفاتر دوبارہ کھولنے یا نہ کھولنے کا فیصلہ کریں گے۔ کوئٹہ میں ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کے خوراک، ترقی اور بچوں سے متعلق اداروں کے دفاتر ہیں۔ پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے دارالحکومت میں اقوام متحدہ نے اپنے دفاتر بند کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب افغانستان کے شہر سپن بولدک میں خود کش بم حملہ ہوا۔ سپن بولدک میں کشتی کے میلے کے دوران ایک خودکش بمبار کے حملے میں پچیس افراد ہلاک اور اسی کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ سپن بولدک بلوچستان کے شہر چمن کے قریب واقع ہے اور پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر دونوں جانب اچکزئی قبیلہ آباد ہے۔ سپن بولدک کے واقعے میں کئی پاکستانی بھی ہلاک و زخمی ہوئے تھے اور کئی زخمی اور کچھ لاشیں چمن لائی گئی تھیں۔ دریں اثناء منگل کے روز فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار محمد عزیز کوہلو کے شہر کرمو وڈھ کے علاقے میں بارودی سرنگ پھٹنے سے ہلاک ہوگیا ہے۔ بلوچستان کے دو اضلاع کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں سیکورٹی فورسز کئی روز سے کارروائی کر رہی ہیں اور مری اور بگٹی قبائل کے ساتھ ان کی مسلح جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||