افغانستان: خودکش حملے، 24 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صوبے قندھار میں دو خود کش حملوں میں کم از کم چوبیس افراد ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔ کوئٹہ سے بی بی سی کے نمائندے اعجاز مہر کے مطابق پہلا خود کش حملہ پاکستان کی سرحد سے ملحقہ افغان قصبے سپین بولدک میں ہوا جہاں ایک مقامی میلے میں ایک موٹر سائیکل سوار حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔ چمن سول ہسپتال کے سول سرجن ناصر اچکزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں آٹھ لاشوں اور تیس زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ اس سے قبل قندھار شہر میں ایک مبینہ خود کش حملے میں ایک افغان فوجی اور تین شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ افغانستان میں دو دنوں میں ہونے والا تیسرا خودکش حملہ تھا۔ حکام کے مطابق یہ حملہ ایک فوجی قافلے پر کیا گیا اور اس میں چھ فوجی اور دس شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والے دھماکے کی جگہ پر خون اور مرنے والوں کے اعضاء بکھرے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ افغان حکام نے طالبان کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملے ’ افغانستان کے دشمنوں‘ نے کیے ہیں۔ قندھار کے گورنر اسد اللہ خالد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ خودکش حملہ آور پاکستان سے آئے تھے اور انہوں نے وہیں تربیت حاصل کی تھی۔ طالبان کا ترجمان ہونے کے دعویدار ایک شخص نے دعوٰی کیا ہے کہ طالبان ہی ان دھماکوں کے ذمہ دار ہیں اور مستقبل میں ایسے مزید دھماکے ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ اتوار کو قندھار کے قریب ہی کینیڈا کے ایک فوجی قافلے پر ’خود کش‘ کار بم حملے میں افغانستان میں کینیڈا کے سیاسی ڈائریکٹر گلین بیری سمیت دو افغانی شہری مارے گئے تھے۔ افغانستان میں خودکش حملوں کے بڑھتے ہوئے رجحان سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ افغانستان میں بھی مزاحمت کار عراقی مزاحمت کاروں کے طریقے اپناتے جا رہے ہیں۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||