’خودکش حملہ‘، 4 افغان ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے شہر قندھار میں ایک مبینہ خود کش حملے میں ایک افغان فوجی اور تین شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔یہ افغانستان میں دو دنوں میں ہونے والا دوسرا خودکش حملہ ہے۔ اس سے قبل کہا گیا تھا کہ حملے مںی تین فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ حملہ ایک فوجی قافلے پر کیا گیا اور اس میں پانچ فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والے دھماکے کی جگہ پر خون اور مرنے والوں کے اعضاء بکھرے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ افغان حکام نے طالبان کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ ’ افغانستان کے دشمنوں‘ نے کیا ہے۔ طالبان کا ترجمان ہونے کے دعویدار ایک شخص نے دعوٰی کیا ہے کہ طالبان ہی ان دھماکوں کے ذمہ دار ہیں اور مستقبل میں ایسے مزید دھماکے ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ اتوار کو قندھار کے قریب ہی کینیڈا کے ایک فوجی قافلے پر ’خود کش‘ کار بم حملے میں افغانستان میں کینیڈا کے سیاسی ڈائریکٹر گلین بیری سمیت دو افغانی شہری مارے گئے تھے۔ افغانستان میں خودکش حملوں کے بڑھتے ہوئے رجحان سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ افغانستان میں بھی مزاحمت کار عراقی مزاحمت کاروں کے طریقے اپناتے جا رہے ہیں۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||