BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 January, 2006, 11:58 GMT 16:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان میں پرتشدد کارروائیاں

بلوچستان میں ایف سی کیمپ
بلوچستان میں ایف سی کیمپ
بلوچستان کے علاقے وڈھ میں قومی شاہراہ پر بم دھماکے کے نتیجے میں ایک پل تباہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے کوئٹہ کراچی روڈ پر ٹریفک بند ہو گئی ہے۔

وڈھ میں انتظامیہ کے مطابق پل کی تباہی کے نتیجے میں چھوٹی بڑی گاڑیوں اور مسافر بسوں کی ایک بڑی تعداد پل کے دونوں اطراف میں لمبی قطاروں میں کھڑی ہے۔

اس ٹریفک جام کی وجہ سےکوئٹہ کراچی روڈ پر سفر کرنے والے سینکڑوں افراد جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔ اس علاقے میں نہ صرف کوئی ہوٹل نہیں ہے بلکہ ان حالات میں بارش نے ان لوگوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب اتوار کے روز چار مسلح افراد نے ایدھی ایمبولینس کی ایک ٹویوٹا وین جو کہ پنجگور سے کراچی جا رہی تھی اسلحہ کے زور پر ڈرائیور سرور بلوچ سے چھین لی اور اسے نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔

قلات میں پولیس نے مقدمہ درج کر کے بتایا ہے کہ مسلح افراد نے ڈرائیور کو زد و کوب کرنے کے بعد اس سے دس ہزار روپے اور موبائل فون بھی چھین لیا ہے۔ یہ ایمبولینس گزشتہ رات کراچی سے ایک مریض کو پنجگور لائی تھی۔

یاد رہے کہ صوبہ بلوچستان میں علاج معالجے کی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ کراچی میں علاج کروانے کو ترجیح دیتے ہیں اور اموات اور سخت مریض ہونے کی صورت میں اکثر اوقات ایدھی ایمبولینس کا استعمال کرتے ہیں۔

ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات کے رونما ہونے کے بعد عبدالستار ایدھی نے بلوچستان میں ایمبولینس سروس بند کرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔

کوہلو کاہان جانے والے راستوں پر فرنٹیئر کور کی بڑی تعداد میں چیک پوسٹوں کے قیام کی وجہ سے زیادہ تر راستے بند ہیں۔

ضلع ناظم کوہلو علی گل مری نے بی بی سی کو بتایا کہ کوہلو اور کاہان کے علاقے میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف تو پاکستانی فورسز عام لوگوں کو مار رہی ہیں جبکہ باقی بچے کھچے لوگ بھوک اور بیماری سے مر جائیں گے۔

خوراک اور ادویات کی کمی کی اطلاعات بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی سے بھی موصول ہو رہی ہیں کیونکہ تیس دسمبر کی بمباری کے بعد سے وہاں تمام دکانیں ابھی تک بند ہیں۔

بگٹی ہاؤس کے ایک ترجمان نبی بگٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کے روز عام شہریوں کے لیے خوراک اور ادویات کے دو ٹرک جو کشمور سے براستہ سوئی ڈیرہ بگٹی پہنچنے تھے، انہیں فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے کر ڈیرہ بگٹی میں واقع ایف سی کے قلعے میں خالی کر دیا۔

نبی بخش نے یہ بھی الزام لگایا کہ عید کے دن ایف سی کی جانب سے مارے جانے والے 12 بگٹیوں کی لاشیں ابھی تک ان کے ورثا کے حوالے نہیں کی گئیں۔ اس سلسلے میں جب انتظامی افسر عبدالصمد لاسی سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مرنے والوں کی لاشیں سینچر کی شام کو ورثا کے حوالے کر دی گئی تھیں۔

خوراک اور ادویات کے ٹرکوں کو تحویل میں لینے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی میں کوئی عام شہری نہیں ہے۔ یہ خوراک فراریوں اور دہشت گردوں کے لیے جا رہی ہو گی اور ممکن ہے کہ اس وجہ سے ایف سی والوں نے روکا ہو۔

بگٹی کے ڈیرے پر
’بلوچستان میں نہ حقوق ہیں نہ انسانیت‘
بلوچ ویب سائٹ
بلوچ قوم پرستوں کی تحریک انٹرنیٹ پر
جام محمد یوسفبلوچستان بٹ گیا
بلوچستان کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر بٹ گیا
اسی بارے میں
بگٹی ہاؤس پر فوج کا ’قبضہ‘
10 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد