بلوچستان آپریشن کے خلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پونم یا خود کو محکوم کہلانے والی قوموں کی تحریک کے ’سرائیکستان‘ یونٹ نے جمعہ کے روز ڈیرہ غازی خان کے مقام تونسہ شریف میں بائیں بازو کی دوسری سیاسی و ادبی تنظیموں کے ساتھ مل کر بلوچستان میں جاری مبینہ فوجی آپریشن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری فوجی آپریشن فوری طور پر ختم کیا جائے اور بندوق کی بجائے جمہوری مکالمے اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے متنازعہ مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ مظاہرین سے پونم (پاکستان اپریسڈ نیشنز موومنٹ) سرائیکستان کے سربراہ حمید اصغر شاہین، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ذوالفقار بلوچ، پیپلز پارٹی کے صفدر شاہ، پروگریسیو انٹلکچوئل فورم کے اللہ بخش بزدار اور محمود نظامی نے خطاب کیا۔ مقررین نے بلوچستان میں جاری ’فوجی آپریشن‘ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور الزام لگایا کہ اس کے نتیجے میں بے گناہ اور نہتے شہریوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشن سے بلوچستان سے ملحقہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے اضلاع میں بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ڈیرہ غازی خان میں بھی فوجی چھاؤنی کے قیام کے لیے زوروشور سے کام جاری ہے جس کا مقصد علاقے کے قدرتی وسائل پر ’غاصبانہ‘ قبضہ اور بلوچستان میں فوجی کارروائیوں کو تیز تر کرنا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ فوج کو ’نیشنل آرمی‘ کے طور پر کام کرنا چاہیے ناکہ نوآبادیاتی ایجنڈا پر کام کرنے ولی ’غاصبانہ قوت‘ کا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ قدرتی وسائل پر مقامی لوگوں کے حقوق تسلیم کیے جائیں اور اس حوالے سے ڈیرہ غازی خان سے نکلنے والی معدنیات مثلاً گیس، تیل اور یورینیم وغیرہ کی رائلٹی دی جائے۔ کالا باغ ڈیم کے منصوبے کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کیا جائے اور مقامی لوگوں کی مرضی کے خلاف کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کیا جائے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||