BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 January, 2006, 10:49 GMT 15:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محفوظ ریل سفر کیلیے ہائی الرٹ

 ریلوے انجن
بلوچستان میں ریلوے املاک کو دھماکوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں شدت پسند کارروائیوں کے بعد ریل کا سفر محفوظ بنانے کے لیے قانون نافد کرنے والے اداروں کو’ہائی الرٹ‘ کر دیا گیا ہے تاکہ پٹڑی اڑانے کا یا کسی ریل گاڑی میں شدت پسندی کا کوئی واقعہ پیش نہ آئے۔

یہ بات پاکستان ریلوے کوئٹہ کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ محمد نعیم ملک نے منگل کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کوئٹہ سے سبی سیکشن تک کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے جہاں لیویز کے ایک سو دس چیک پوسٹ قائم کیے گئے ہیں وہاں ساٹھ کے قریب اہم مراکز یعنی سرنگوں اور پلیوں وغیرہ کی نشاندہی کر کے وہاں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

کوئٹہ ریلوے سٹیشن کا بیرونی منظر

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ریلوے پٹڑی اور دیگر املاک کو نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد سکیورٹی انتظامات سخت کرنے پر اخراجات میں بھی لاکھوں روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔

ان کے مطابق لیویز فورس کی تعیناتی پر سالانہ انہیں ایک کروڑ روپے کے قریب اخراجات اٹھانے پڑیں گے جبکہ فرنٹیئر کانسٹیبلری یعنی ایف سی کے تعینات اہلکاروں کے اخراجات بلوچستان کی صوبائی حکومت ادا کرتی ہے اور ان کے اخراجات لیویز سے علیحدہ ہیں۔

محمد نعیم ملک کے مطابق ریلوے لائن پر ہر پانچ کلومیٹر تک دو ’پیٹرولنگ‘ ٹیمیں گشت کرتی ہیں اور کسی بھی ریل گاڑی سے پہلے ’پائلٹ‘ انجن چلتا ہے۔ تمام ریلوے سٹیشنوں میں داخل ہونے والے مسافروں کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے اور ہر ڈبے میں پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق ایسے اقدامات سے ریلوے کے اخراجات میں اضافہ تو ہوگیا ہے لیکن ان کے بقول عوام کو محفوظ سفری سہولیات فراہم کرنے کے بدلے اخراجات کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔

مسافروں کی آگاہی کےلیے بورڈ بھی لگائے گئے ہیں

کوئٹہ ریلوے سٹیشن کے ’ریزرویشن سینٹر‘ میں قطار میں کھڑے مسافروں کا کہنا ہے کہ وہ حفاظتی انتظامات سے مطمئن ہیں۔ ایک مسافر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ’خطرہ جتنا سڑک کے ذریعے سفر میں ہے اتنا ہی ریل میں ہے‘۔ ان کے مطابق چلتن ایکسپریس کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے کیونکہ کشمور اور راجن پور کا علاقہ خطرناک ہے‘۔

ایک اور قطار میں بولان میل کا ٹکٹ خریدنے کے لیے کھڑے ہوئے شخص نے کہا کہ وہ سیہون شریف جانا چاہتے ہیں۔ محمد علی نامی اس شخص نے کہا کہ بچوں کے ہمراہ ریل کا سفر آرام دہ ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ موت آنی ہوگی تو وہ کہیں پر بھی آسکتی ہے۔

کوئٹہ ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ تین ہزار سے زیادہ مسافر روزانہ ریلوے سے سفر کرتے ہیں اور اس سے سالانہ تیس کروڑ روپے کے قریب آمدنی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق تیرہ سو بوگیوں پر مشتمل مال گاڑیوں کی آمد و رفت سے رواں مالی سال کے دوران انہیں ستائیس کروڑ کے قریب آمدن ہونے کی توقع ہے۔

اسی بارے میں
ریلوے لائن بم سے اڑا دی گئی
05 January, 2006 | پاکستان
ریلوے لائن پر دھماکہ
07 September, 2005 | پاکستان
ٹیلی فون ایکسچینج تباہ
08 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد