محفوظ ریل سفر کیلیے ہائی الرٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں شدت پسند کارروائیوں کے بعد ریل کا سفر محفوظ بنانے کے لیے قانون نافد کرنے والے اداروں کو’ہائی الرٹ‘ کر دیا گیا ہے تاکہ پٹڑی اڑانے کا یا کسی ریل گاڑی میں شدت پسندی کا کوئی واقعہ پیش نہ آئے۔ یہ بات پاکستان ریلوے کوئٹہ کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ محمد نعیم ملک نے منگل کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کوئٹہ سے سبی سیکشن تک کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے جہاں لیویز کے ایک سو دس چیک پوسٹ قائم کیے گئے ہیں وہاں ساٹھ کے قریب اہم مراکز یعنی سرنگوں اور پلیوں وغیرہ کی نشاندہی کر کے وہاں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ریلوے پٹڑی اور دیگر املاک کو نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد سکیورٹی انتظامات سخت کرنے پر اخراجات میں بھی لاکھوں روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق لیویز فورس کی تعیناتی پر سالانہ انہیں ایک کروڑ روپے کے قریب اخراجات اٹھانے پڑیں گے جبکہ فرنٹیئر کانسٹیبلری یعنی ایف سی کے تعینات اہلکاروں کے اخراجات بلوچستان کی صوبائی حکومت ادا کرتی ہے اور ان کے اخراجات لیویز سے علیحدہ ہیں۔ محمد نعیم ملک کے مطابق ریلوے لائن پر ہر پانچ کلومیٹر تک دو ’پیٹرولنگ‘ ٹیمیں گشت کرتی ہیں اور کسی بھی ریل گاڑی سے پہلے ’پائلٹ‘ انجن چلتا ہے۔ تمام ریلوے سٹیشنوں میں داخل ہونے والے مسافروں کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے اور ہر ڈبے میں پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات سے ریلوے کے اخراجات میں اضافہ تو ہوگیا ہے لیکن ان کے بقول عوام کو محفوظ سفری سہولیات فراہم کرنے کے بدلے اخراجات کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔
کوئٹہ ریلوے سٹیشن کے ’ریزرویشن سینٹر‘ میں قطار میں کھڑے مسافروں کا کہنا ہے کہ وہ حفاظتی انتظامات سے مطمئن ہیں۔ ایک مسافر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ’خطرہ جتنا سڑک کے ذریعے سفر میں ہے اتنا ہی ریل میں ہے‘۔ ان کے مطابق چلتن ایکسپریس کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے کیونکہ کشمور اور راجن پور کا علاقہ خطرناک ہے‘۔ ایک اور قطار میں بولان میل کا ٹکٹ خریدنے کے لیے کھڑے ہوئے شخص نے کہا کہ وہ سیہون شریف جانا چاہتے ہیں۔ محمد علی نامی اس شخص نے کہا کہ بچوں کے ہمراہ ریل کا سفر آرام دہ ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ موت آنی ہوگی تو وہ کہیں پر بھی آسکتی ہے۔ کوئٹہ ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ تین ہزار سے زیادہ مسافر روزانہ ریلوے سے سفر کرتے ہیں اور اس سے سالانہ تیس کروڑ روپے کے قریب آمدنی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق تیرہ سو بوگیوں پر مشتمل مال گاڑیوں کی آمد و رفت سے رواں مالی سال کے دوران انہیں ستائیس کروڑ کے قریب آمدن ہونے کی توقع ہے۔ | اسی بارے میں ریلوے لائن پر دھماکہ07 September, 2005 | پاکستان بلوچستان میں تشدد کےواقعات16 August, 2005 | پاکستان سبی پٹڑی کو دھماکے سے نقصان 01 May, 2005 | پاکستان ٹیلی فون ایکسچینج تباہ 08 February, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||