ٹیلی فون ایکسچینج تباہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر نوشکی کے قریب نامعلوم افراد نے ٹیلیفون کے سٹیشن اور ٹاور پر راکٹ داغے ہیں جس سے شہر کے قریبی علاقوں کا دیگر علاقوں سے مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ ادھر سِبی کے قریب ریل کی پٹڑی اور پل کی تعمیر کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور ریل گاڑیوں کی آمدو رفت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ٹیلیفون کے محکمے کے ترجمان نے بتایا ہے کہ نوشکی میں ایک ٹاور اور سٹیشن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کنٹرول روم کو لگنے والا راکٹ پھٹا نہیں ہے بلکہ مشینری میں پھنس گیا ہے۔ بم ناکارہ بنانے والے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ اس راکٹ کو اسی طرح نکالنے کی کوشش کی جائے گی بصورت دیگر دوسرا حل اس راکٹ کا پھٹنا ہے۔ یہاں بعض اطلاعات کے مطابق کل چار راکٹ داغے گئے تھے جن میں سے دو نشانے پر لگے ہیں جبکہ ٹیلیفون کے محکمہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ دو ہی راکٹ داغے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس حملے سے نوشکی۔ احمدوال، دالبندین، تفتان، ماشکیل، واشک اور خاران کے علاقے متاثر ہوئے ہیں جہاں نو بڑے اور آٹھ چھوٹے ایکسچینج ناکارہ ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ دو روز قبل نا معلوم افراد نے کوئٹہ کے مشرق میں بارکھان کے علاقے میں ٹیلیفون سٹیشن اور ٹاور تباہ کر دیئے تھے جس کے بارے میں حکام نے بتایا ہے کہ اب یہاں نئے سرے سے سٹیشن قائم کرنا ہو گا۔ ادھر سبی کے علاقے میں ریلوے لائن کے قریب منگل کی دوپہر کو ایک اور دھماکے کی آواز سنی گئی ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ دھماکہ کہاں ہوا ہے۔ سبی کے قریب ریلوے پل پر پانچ دھماکے ہوئے تھے جس سے پل اور پٹڑی کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||