’اقوام متحدہ مداخلت کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نواب اکبر بگٹی نے بلوچستان مسئلے پر اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ کراچی پریس کلب میں اتوار کی شام ٹیلیفون پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں نسل کشی ہوتی ہے وہاں اقوام متحدہ مداخلت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھی بلوچ قوم کی ’نسل کشی‘ ہو رہی ہے، اس لئے اقوام متحدہ کو مداخلت کرنی چاہیے۔ بلوچستان کے حالیہ واقعات کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ نواب اکبر بگٹی نے کراچی میں میڈیا سے رجوع کیا ہے۔ نواب بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پر یوں بمباری کی جارہی ہے جیسے پاکستانی افواج دشمن ملک بھارت پر بم گرا رہی ہو۔ انہوں نے کہا کہ بلوچوں کو چن چن کر اس طرح سےمار جارہا ہے جس طرح بنگالیوں کو مارا گیا تھا۔ نواب بگٹی کا کہنا تھا کہ کوہلو میں جنرل پرویزمشرف پر حملے کے بعد پورے بلوچستان پر بمباری کی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ مشرف پر تو کراچی اور اسلام آباد میں بھی حملے ہوئے ہیں، وہاں بمباری کیوں نہیں کی گئی؟ بگٹی نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی اور مری کے علاقے کو چاروں طرف سے گھیر کر انہیں یرغمال بنایا گیا ہے اور من پسند ایجنڈا منوانے کی کوشش کی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے آپریشن نہ روکا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔ نواب اکبر بگٹی نے بتایا کہ انہوں نے بلوچوں کی ایک پارٹی بنانے کا نظریہ پیش کیا تھا مگر اس پر قوم پرست سست رفتاری سے کام کر رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اخبارات میں یہ آرہا ہے کہ لوگوں پر راکٹ برسائے جا رہے ہیں جبکہ اس سے بڑے اور خطرناک ہتھیار استعمال کئے جارہے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے الٹیمیٹم کے بارے میں نواب اکبر نے کہا کہ متحدہ کا فیصلہ قابل تعریف تھا، ہوسکتا ہے انہوں نے اپنے مفادات میں یہ فیصلہ واپس لیا ہو۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||