بلوچ قوم پرستوں کو وارننگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام محمد یوسف نے شدت پسند بلوچ رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے پرتشدد کارروائیاں بند نہیں کیں تو پھر وہ فوج کو بلائیں گے اور ایئر فورس کے ذریعے ان پر بمباری کرائیں گے۔ یہ بات انہوں نے بی بی سی سے ایک مختصر انٹرویو کے دوران کہی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ اپنے صوبے کا امن و امان کسی کو بھی خراب نہیں کرنے دیں گے اور اس کی خاطر وہ کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے ڈیرہ بگٹی ضلع میں فضائیہ کے طیاروں سے بمباری کی سختی سے تردید کی لیکن کوہلو ضلع کی تحصیل کاہان میں ایئر فورس کے ذریعے بمباری کی تصدیق کی۔ جمعرات کے روز کوئٹہ سے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مارواڑ کے علاقے میں ایک جلسہ عام سے خطاب کے بعد بی بی سی کے ساتھ جب وہ بات کر رہے تھے اور کاہان میں بمباری کی تصدیق کی تو ایک سادہ کپڑوں میں ملبوس شخص نے پراسرار انداز میں وزیراعلیٰ کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا سر نفی میں ہلایا اور اچانک وزیراعلیٰ نے اپنا موقف تبدیل کرلیا۔ وزیراعلیٰ نے بعد میں کہا کہ کوہلو ضلع میں بمباری ایئر فورس نے نہیں کی بلکہ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے کی ہے اور گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال ہوئے ہیں۔ جس پر وہاں موجود شخص نے وزیر اعلیٰ کے بعد میں اختیار کردہ موقف کی حمایت میں سر ہلایا۔ وزیراعلیٰ جام یوسف سے جب پوچھا گیا کہ وہ شدت پسند بلوچوں سے بات چیت کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے کہا کہ ’دیکھیں بگٹی کا مسئلہ مختلف ہے اور مری کا معاملہ کچھ اور ہے۔ ان کے مطابق بگٹی کبھی بھی مری کو اپنے معاملے میں شامل نہیں کرے گا۔‘ تاہم انہوں نے سردار مری کی کارروائیوں کے متعلق تفصیل سے تو بات نہیں کی لیکن اتنا کہا کہ وہ تیس پینتیس برسوں سے پرتشدد کارروائیوں میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی اور نواب خیر بخش مری ان سے بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں کیوں کہ وہ کہتے رہے ہیں کہ وہ مرکزی حکومت سے بات کریں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جس انداز میں ’شرپسند‘ بلوچ رہنما بات کرنا چاہتے ہیں وہ تو ایسا ہے جیسے آزادی کی جدوجہد اور انقلاب کے وقت کیا جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے اور ابھی خدا نخواستہ آزادی یا انقلاب کی صورتحال نہیں ہے۔ | اسی بارے میں پائپ لائن تباہ، ہلاکتوں کا الزام15 January, 2006 | پاکستان ’اقوام متحدہ مداخلت کرے‘15 January, 2006 | پاکستان بلوچستان میں پرتشدد کارروائیاں15 January, 2006 | پاکستان محفوظ ریل سفر کیلیے ہائی الرٹ17 January, 2006 | پاکستان بلوچوں کوغیر ملکی مدد حاصل ہے‘17 January, 2006 | پاکستان کوئٹہ: اقوام متحدہ کے دفاتر بند17 January, 2006 | پاکستان بلوچ آپریشن: ہزارہ برادری کا احتجاج18 January, 2006 | پاکستان پسنی: تھانے پر قوم پرستوں کا حملہ19 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||