BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 January, 2006, 09:48 GMT 14:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچ قوم پرستوں کو وارننگ

بلوچستان میں فوجی آپریشن کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے ہیں
پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام محمد یوسف نے شدت پسند بلوچ رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے پرتشدد کارروائیاں بند نہیں کیں تو پھر وہ فوج کو بلائیں گے اور ایئر فورس کے ذریعے ان پر بمباری کرائیں گے۔

یہ بات انہوں نے بی بی سی سے ایک مختصر انٹرویو کے دوران کہی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ اپنے صوبے کا امن و امان کسی کو بھی خراب نہیں کرنے دیں گے اور اس کی خاطر وہ کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے۔

انہوں نے ڈیرہ بگٹی ضلع میں فضائیہ کے طیاروں سے بمباری کی سختی سے تردید کی لیکن کوہلو ضلع کی تحصیل کاہان میں ایئر فورس کے ذریعے بمباری کی تصدیق کی۔

جمعرات کے روز کوئٹہ سے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مارواڑ کے علاقے میں ایک جلسہ عام سے خطاب کے بعد بی بی سی کے ساتھ جب وہ بات کر رہے تھے اور کاہان میں بمباری کی تصدیق کی تو ایک سادہ کپڑوں میں ملبوس شخص نے پراسرار انداز میں وزیراعلیٰ کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا سر نفی میں ہلایا اور اچانک وزیراعلیٰ نے اپنا موقف تبدیل کرلیا۔

وزیراعلیٰ نے بعد میں کہا کہ کوہلو ضلع میں بمباری ایئر فورس نے نہیں کی بلکہ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے کی ہے اور گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال ہوئے ہیں۔ جس پر وہاں موجود شخص نے وزیر اعلیٰ کے بعد میں اختیار کردہ موقف کی حمایت میں سر ہلایا۔

وزیراعلیٰ جام یوسف سے جب پوچھا گیا کہ وہ شدت پسند بلوچوں سے بات چیت کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے کہا کہ ’دیکھیں بگٹی کا مسئلہ مختلف ہے اور مری کا معاملہ کچھ اور ہے۔ ان کے مطابق بگٹی کبھی بھی مری کو اپنے معاملے میں شامل نہیں کرے گا۔‘ تاہم انہوں نے سردار مری کی کارروائیوں کے متعلق تفصیل سے تو بات نہیں کی لیکن اتنا کہا کہ وہ تیس پینتیس برسوں سے پرتشدد کارروائیوں میں لگے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی اور نواب خیر بخش مری ان سے بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں کیوں کہ وہ کہتے رہے ہیں کہ وہ مرکزی حکومت سے بات کریں گے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جس انداز میں ’شرپسند‘ بلوچ رہنما بات کرنا چاہتے ہیں وہ تو ایسا ہے جیسے آزادی کی جدوجہد اور انقلاب کے وقت کیا جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے اور ابھی خدا نخواستہ آزادی یا انقلاب کی صورتحال نہیں ہے۔

اسی بارے میں
’اقوام متحدہ مداخلت کرے‘
15 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد