کوئٹہ: اقوام متحدہ کے دفاتر بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ اور بین الاقوامی این جی اوز (غیر سرکاری اداروں) نے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں اپنے ذیلی دفاتر اور آپریشنز بند کر دیئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ اقدام پیر کے روز کوئٹہ میں عالمی ادارے کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کے دفتر میں موصول ہونے والی ایک گمنام ٹیلی فون کال کے بعد کیا گیا ہے۔ جس میں مذکورہ عالمی اداروں کے اہلکاروں اور دفتروں پر حملے کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کے ادارے ہیومنیٹیرین کے پاکستان میں سربراہ وینڈی مورٹیلی نے دھمکی آمیز ٹیلی فون کال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بات کرنے والے نامعلوم شخص نے دو مرتبہ دھمکیوں میں ’القاعدہ‘ کا نام استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اگر دفاتر کو بند نہ کیا گیا تو القاعدہ ان پر حملے کریگی اور یہ حملے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی امدادی اداروں کے اہلکاروں اور ان کی گاڑیوں پر بھی کئے جائیں گے۔ وینڈی مور ٹیلی نے کہا ہے کہ ٹیلی فون کال کے بعد اعلیٰ سطح پر فیصلہ کیا گیا کہ دفاتر فی الفور بند کردیئے جائیں اور ان اداروں میں کام کرنے والے دوسرے ممالک کے افسران اور اہلکاروں کو ان کی جان کی حفاظت کے لیے اسلام آباد طلب کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے دھمکی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لیے انتہائی تشویشناک امر ہے اور ہم ایسی باتوں کو نظر انداز کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ان دفاتر کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ فی الحال ہم صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور پاکستانی حکام سے بات چیت کے بعد ہی ہم کوئی فیصلہ کرسکیں گے۔ واضح رہے کہ دو سال قبل جون 2004 میں بھی طالبان کے ایک غیر معروف رہنماء نے فیکس کے ذریعے اقوام متحدہ کے دفاتر پر حملے کرنے کی دھمکی دی تھی جس کے بعد دفاتر کو ایک ماہ تک بند رکھا گیا تھا۔ پیر کے روز ملنے والی دھمکی کے بعد بلوچستان میں اقوام متحدہ کے چھ ذیلی ادارے جن میں یو این ایچ سی آر، یو این ڈی پی، یونسیف، یو این ایڈز، ڈیلیو ایف پی اور یو این ایف پی پی کے علاوہ 12 عالمی غیر سرکاری تنظیموں کے دفاتر اور ان کے آپریشنز بند کر دیئے گئے۔ اس سلسلے میں جب حکومت بلوچستان کے ترجمان رازق بگٹی سے رابط قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ حکومت نے اقوام متحدہ کے دفاتر کے ساتھ ساتھ تمام غیر سرکاری این جی اوز کے دفتروں اور ان کے اہلکاروں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی فورسز تعینات کر دیئے ہیں۔ رازق بگٹی کے مطابق حکومت اور اقوام متحدہ کے ان اداروں کے سربراہوں کے درمیان بات چیت کا بھی آغاز ہو گیا ہے اور حکومت بلوچستان نے یواین سمیت تمام غیر سرکاری اداروں کویقین دہانی کرائی ہے کہ صوبائی حکومت کو ان کو بھر پور تحفظ فراہم کریگی۔ واضح رہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں یواین اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں نے پانچ ہزار سے زیادہ لوگ صحت، تعلیم، پینے کے لیے صاف پانی کی فراہمی کے سلسلے میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اقوام متحدہ سمیت دیگر غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے جاری منصوبوں پر کام روک دیا گیا تو اسے بلوچستان بھر میں دس سے پندرہ لاکھ افراد متاثر ہونگے کیونکہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں اب بھی صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی جانب سے عام لوگوں کے لیے صحت تعلیم اور پینے کے صاف پانی کے شعبے میں سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||