وفاق،صوبوں میں وسائل کی تقسیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل مشرف نے ایک حکمنامہ جاری کرکے قومی مالیاتی ایوارڈ کا اعلان کردیا ہے۔ جس کے تحت وفاق اور چاروں صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کی گئی ہے۔ نئے حکم کی رو سے صوبوں کا حصہ بتدریج بڑھا کر پانچ سال کے عرصے میں سوا چھیالیس فیصد ہو جائے گا۔ جبکہ باقی آمدنی وفاق کو ملے گی۔ اس سے قبل صوبوں کو ساڑھے سینتیس فیصد ملتا تھا جبکہ صوبوں کے زبردست احتجاج پر وفاقی حکومت نے ان کو مالی وسائل کا پچاس فیصد حصہ دینے کا عندیہ دیا تھا۔ صوبوں کا ایک بڑے عرصے سے یہ مطالبہ تھا کہ وصولیوں کو صوبوں اور وفاقی حکومت میں پچاس پچاس فیصد بانٹا جائے۔ قومی مالیاتی کمیشن جس میں چاروں صوبوں کو نمائندگی حاصل ہے، کی سفارشات آنا باقی تھیں۔ اس صورتحال میں یہ ایوارڈ عبوری ہونا چاہئے تھا لیکن صدر کے اس حکم کے بعد یہ آئندہ پانچ سال کے لئے نافذ العمل ہوگا۔ پنجاب اور اس کے مقابلے میں باقی تین صوبوں کے متضاد موقف کی وجہ سے مالی وسائل کی تقسیم کا فارمولہ طے نہیں ہو سکا تھا۔ پنجاب کا موقف تھا کہ آبادی کی بنیاد پر وسائل تقسیم کیے جائیں۔ جبکہ باقی صوبوں کا موقف تھا کہ آمدنی، ترقی، پسماندگی اور دیگر امور کو بھی وسائل کی تقسیم کے وقت خاطر میں لایا جائے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے صدر مشرف کو اختیار دیا تھا کہ وہ مالی وسائل کی تقسیم کا اعلان کریں۔ سال انیس سو ننانوے میں مالیاتی کمیشن نے مذاکرات شروع کئے۔ بالآخر دو ہزار دو میں اس پر اتفاق رائے ہوگیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم کے معاملے میں صوبوں کو تینتالیس فیصد حصہ ملےگا اور یہ کہ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لیے کثیر درجہ بندیوں (ملٹی پل کرائٹیریا) کو خاطر میں لایا جائے گا۔ صدر کے حکم میں کہا گیا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن سفارشات پیش نہ کر سکا ہے چونکہ یہ بہت ہی اہمیت کا حامل اور ضروری معاملہ ہے جس میں مزید دیر نہیں کی جا سکتی لہٰذا صدر نے حکم نامے کے ذریعے مالی وسائل کی تقسیم کردی ہے۔ سال انیس سو ستانوے میں فاروق لغاری کے دور صدارت میں ملک معراج خالد کی نگران حکومت نے قومی مالیاتی ایوارڈ دیا تھا۔ جس کے بعد نواز شریف اور بعد میں چھ سال کے عرصے تک صدر جنرل مشرف بھی کمیشن کے ذریعے مالی وسائل کی تقسیم نہیں کر سکے۔ نئے حکم کے مطابق انکم ٹیکس، ویلتھ ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس، سیلز اینڈ پرچیز ٹیکس، کاٹن ایکسپورٹ ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ خدمات پر سیلز ٹیکس کو بھی قابل تقسیم پول کا حصہ قرار دیاگیا ہے۔ خدمات پر سیلز ٹیکس پہلے اس پول کا حصہ نہیں تھا۔ یہ حکمنامے یکم جولائی دو ہزار چھ سے لاگو ہوگا۔ اس کے مطابق پہلے سال کے دوران صوبوں کو ساڑھے اکتالیس فیصد حصہ ملے گا۔جس کے بعد ہر سال تقریبآ ایک فیصد کا اضافہ ہوگا۔ اور دو ہزار دس میں صوبوں کا حصہ سوا چھیالیس فیصد ہو جائےگا۔ سیلز ٹیکس میں پنجاب اور سرحد کا حصہ بڑھا دیا گیا ہے۔جبکہ سندھ اور بلوچستان کا حصہ گھٹ گیا ہے۔سیلز ٹیکس کی مد میں پہلے پنجاب کو تقریبا ساڑھ بیالیس فی صد حصہ ملتا تھا جسے اب بڑھا کر پچاس فیصد کردیا گیا ہے۔اور سندھ جس کو پہلے چھیالیس فیصد ملتا تھا اس کو اب پونے پینتیس فی صد ملےگا۔ اسی طرح سے سرحد کا حصہ بڑھایا گیا ہے جبکہ بلوچستان کے حصے میں معمولی کمی کی گئی ہے۔ سیلز ٹیکس کے علاوہ باقی رقم صوبوں کے درمیان آبادی کی بنیاد پر تقسیم کی جائے گی۔ صوبوں کی پسماندگی کے حوالے سے گزشتہ مالیاتی کمیشن نے جو رقم بلوچستان اور سرحد صوبوں کے لیے رکھی تھی اس میں اب پنجاب اور سندھ کو بھی حصہ دار بنا دیا گیا ہے۔ جس میں سے پنجاب کو گیارہ فیصد اور سندھ کو اکیس فیصد ملے گا۔ | اسی بارے میں این ایف سی: فیصلہ مشرف کریں گے30 May, 2005 | پاکستان ’محاصل کی تقسیم، فارمولا تبدیل ہوناچاہیئے‘17 November, 2003 | پاکستان قومی مالیاتی ایوارڈ مار چ میں 13 December, 2003 | پاکستان چھٹے قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس21 February, 2004 | پاکستان ’حق مانگ رہے ہیں بھیک نہیں‘15 March, 2004 | پاکستان سرحد حکومت کی صدر سے اپیل24 May, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||