کوہلو: کیا ہورہا ہے، کیوں ہورہا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کا ضلع کوہلو، کوئٹہ سے 450 کلومیٹر دور شمال مشرق میں واقع ہے۔ کوہلو، میونہ اور کاہان کی تین تحصیلوں پر مشتمل اس ضلعے کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ ہے جس میں زیادہ تر دری بلوچ رہتے ہیں۔ جبکہ پانچ سے آٹھ فیصد تک زرکون پشتون قبیلہ آباد ہے۔ کوہلو کی 60 فیصد آبادی کے روزگار کا انحصار مال، مویشیوں پر ہے جبکہ تین فیصد لوگ کاشتکاری سے وابستہ ہیں۔ دس فیصد افراد یا تو سرکاری ملازمین ہیں یا پھر چھوٹی موٹی تجارت کرتے ہیں۔ یہ افراد انتہائی غربت میں زندگی گزارتے ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے چودہ دسمبر کو ضلعے کے دورے کے دوران ترقیاتی کاموں کے لیے ڈیڑھ ارب روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔ ان ترقیاتی کاموں میں سڑکوں کی تعمیر، صحت کے شعبے میں بہتری، کیڈٹ کالج اور گرلز کالج قائم کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔ دورے کے دوران کوہلو میں مزاحمت کاروں نے صدر مشرف پر راکٹ سے آٹھ حملے کیے جس کے بعد پاکستان کی مرکزی حکومت نے فرنٹیئر کور کی مدد سے یہاں فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ یہ آپریشن ابھی تک کاہان اور ڈیرہ بگٹی میں جاری ہے۔ آپریشن شروع ہونے کے بعد حکومت بلوچستان نے آج پہلی بار صحافیوں کی ایک ٹیم کو کوہلو کا دورہ کروایا ہے۔ دورے کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے ایف سی کے کرنل نعیم نے بتایا کہ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے علاقوں میں گزشتہ پانچ سال سے 40 باغی کیمپ قائم تھے جس میں سے گیارہ ایف سی نے ختم کردیے ہیں۔ گیارہ میں سے نو کیمپ کوہلو اور دو ڈیرہ بگٹی میں تھے۔ کرنل نعیم کے مطابق ’ان کیمپوں میں باغیوں کو تربیت دی جاتی تھی جو بعد میں پاک فوج اور ترقیاتی کاموں پر مامور افراد پر راکٹ حملے کرتے تھے۔ ان لوگوں کو افغانستان سے اسلحہ فراہم کیا جاتا تھا۔ ہم نے ان کی سپلائی لائن توڑ دی ہے‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مری قبیلے کے سربراہ نواب خیر بخش مری اور ان کے صاحبزادے علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کے خلاف ہیں۔ ’وہ نہیں چاہتے کہ یہاں تعلیم عام ہو اور لوگ ترقی کریں۔ لیکن صدر کے منصوبے کے مطابق اب لوگ خوشحال ہوجائیں گے‘۔ اس موقع پر ضلعی رابطہ افسر نسیم لہڑی نے بتایا کہ کوہلو، میونہ اور کاہان پر مشتمل تین تحصیلوں میں صرف 70 کلومیٹر لمبی روڈ ہے۔ علاقے میں بجلی نہ ہونے کی وجہ یہ سے بہت سے زمیندار اپنے ٹیوب ویل تیل سے چلاتے ہیں جس سے ان کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ پورے ضلع میں لڑکوں کے لیے 83 پرائمری سکول اور دس ہائی سکول ہیں جبکہ صدر مشرف نے علاقے میں بجلی کا گرڈسٹیشن اور کالجز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ضلعی ہسپتال میں ادویات کی کمی کے باعث زیادہ تر مریض ڈیرہ غازی خان میں علاج کرانے پر مجبور ہیں۔ ہزار خان نامی ایک شخص نے، جس نے ہاتھ میں راکٹ کا ایک خالی خول اٹھارکھا تھا ، بتایا کہ اس کے گھر پر یہ راکٹ نواب خیر بخش مری کے لوگوں نے فائر کیا تھا۔ جس سے نہ صرف گھر تباہ ہوا بلکہ ایک بچہ بھی ہلاک ہوگیا۔ ایک قبائلی معتبر میر لیاقت علی مری نے بتایا ’کوہلو کے علاقے میں گزشتہ پانچ سالوں سے فراری (باغی) کیمپ قائم تھے۔ کئی بار حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ہمیں دہشتگردوں سے نجات دلائی جائے۔ ان دہشتگردوں نے پورے علاقے میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں جن سے اب تک 70 سے زائد افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوچکے ہیں‘۔ میر لیاقت علی مری کے مطابق کاہان نو گو ایریا بن چکا ہے۔ جب میں نے نواب خیر بخش مری کی جانب سے ترقیاتی کاموں بالخصوص تعلیم کی مخالفت کے بارے میں ایک شخص باز محمد مری سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا ’جب علاقے میں ترقی ہو گی اور سڑکیں بنیں گی تو نواب مری کے ساتھ کلاشنکوف کون اٹھائیں گے؟‘ باز محمد مری کے مطابق اب بھی کوہلو میں بلوچ لبریشن آرمی کے لوگ موجود ہیں۔ ایک اور قبائلی معتبر فیض محمد نے الزام لگایا کہ فراری کیمپوں میں رہنے والے یہاں کے لوگوں سے بھتہ لیتے تھےاس کے علاوہ کوہلو سے آنے جانے والے راستوں پر چیک پوسٹیں بنا کر مال مویشوں پر بھی ٹیکس وصول کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا ’پاس ہی جو میر بالاچ مری کا علاقہ ہے وہاں کوئی میٹرک پاس نہیں ملے گا۔ حکومت ان لوگوں کو راہِ راست پر لائے‘۔ عام لوگوں سے ملنے کے بعد صبح جب ہم شہر کا دورہ کر رہے تھے تو شہر کی اکثر سڑکیں ٹوٹی پھوٹی تھیں۔ شہر کے زیاہ تر مکانات مٹی کے بنے ہوئے تھے۔ اسے دوران اچانک نواب خیر بخش مری اور میر محبت خان مری کے لوگوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ میر محبت خان مری کے مسلح افراد نے نواب خیر بخش مری کے اس ہمدرد کو زدوکوب کیا جو صحافیوں سے بات کرنا چاہتا تھا۔ اس پر جب میں نے سابق وزیر میر محبت خان مری سے پوچھا کہ ان کے لوگوں نے نواب مری کے حمایتی کو کیوں مارا تو میر محبت خان مری نے بتایا کہ جہاں پندرہ سے بیس مری اکٹھے ہوجائیں گے وہاں لڑائی ضرور ہو گی۔ واضح رہے کہ میر محبت خان مری کو مرکزی حکومت اور فوج کی حمایت حاصل ہے۔ | اسی بارے میں ’حملہ ملک کی سالمیت پر تھا‘16 January, 2006 | پاکستان بلوچوں کوغیر ملکی مدد حاصل ہے‘17 January, 2006 | پاکستان بلوچوں کوغیر ملکی مدد حاصل ہے‘17 January, 2006 | پاکستان کوئٹہ میں یو این کے دفاتر بند17 January, 2006 | پاکستان ایف سی اور مری قبائل میں جھڑپیں18 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||