’بلوچوں کی نسل کشی روکی جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر کوہلو سے کوئٹہ آنے والے مری قبیلے کے لوگوں نے بین الاقوامی اداروں اور انسای حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ از خود مداخلت کریں تاکہ بقول ان کے’ بلوچ قوم کی نسل کشی کو روکا جا سکے۔‘ کوئٹہ کے مضافات میں نیو کاہان نامی علاقے کے ایک سکول میں بیس سے پچیس افراد موجود تھے۔ ان میں کم سن بچوں سے لے کر بڑی عمر کے لوگ شامل تھے۔ نیو کاہان میں وہ لوگ آباد ہیں جو نواب خیر بخش مری کے ساتھ افغانستان سے واپس آئے تھے۔ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے مری قبیلے کے لوگوں نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے فوجی کارروائی کے نام پر بلوچوں کی نسل کشی شروع کر رکھی ہے۔ منگل مری نامی ایک شخص نے کہا ہے کہ انہوں نے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو بمباری کرتے دیکھا ہے جس سے بچے خواتین اور مویشی ہلاک ہوئے ہیں اور ان کے جھونپڑے تباہ ہو گئے ہیں۔ مری قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک اور نوجوان نے کہا ہے وہ پہاڑوں پر خفیہ راستوں سے ہوکر دوسرے علاقوں تک پہنچے ہیں جہاں سے وہ کوئٹہ آئے ہیں۔ سیف اللہ نامی ایک طالبعلم نے کہا ہے حکومت مری قبیلے کے علاقے میں موجود تیل گیس اور معدنیات پر قبصہ کرنا چاہتی ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ حکومت ان وسائل کو علاقے کی ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے تو انہوں نے کہا کہ سوئی میں لوگوں نے اپنی مرضی سے گیس نکالنے کی اجازت دی تھی لیکن پچاس سال گزرنے کے باوجود سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں لوگ پتھروں پر روٹی پکاتے ہیں اور لکڑی جلا کر کھانا بناتے ہیں وہاں آج بھی گیس نہیں ہے تو کوہلو میں کیا ترقی ہو گی۔
ان قبائلیوں نے کہا ہے کہ کوہلو میں کوئی قبائلی تنازعہ نہیں ہے لوگ متحد ہیں اور علاقے کی بہتری کے خواہاں ہیں۔ یاد رہے گزشتہ روز صوبائی حکومت اور فرنٹیئر کور کوئٹہ سے کچھ صحافیوں کو کوہلو لے گئے تھے جہاں انہیں سرکاری کارروائی سے آگاہ کیا گیا۔ جس کے بعد ان لوگوں سے ملوایا گیا جنہوں نے کوہلو میں نا معلوم افراد کی جانب سے راکٹ داغنے کے واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ ان میں رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری ملوث ہیں۔ لیکن اس موقع پر کچھ لوگوں نے اپنا موقف پیش کرنا چاہا تو صحافیوں کو ان سے ملنے نہیں دیا گیا اور حکومت کے حمایتی لوگوں نے ان کے ساتھ جھگڑا شروع کر دیا۔ یاد رہے کہ کوہلو کی صوبائی نشست پر بالاچ مری کامیاب ہوئے ہیں اور حالیہ ضلعی حکومت کے انتخابات میں بالاچ مری کے حمایتی پینل نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ |
اسی بارے میں بلوچستان میں جنگ کی کیفیت: رپورٹ22 January, 2006 | پاکستان کوہلو: کیا ہورہا ہے، کیوں ہورہا ہے؟21 January, 2006 | پاکستان ایف سی اور مری قبائل میں جھڑپیں18 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||