BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 January, 2006, 21:52 GMT 02:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بلوچوں کی نسل کشی روکی جائے‘

کوہلو اور ڈیرھ بگٹی سے لوگ نکل مقانی کر رہے ہیں
کوہلو اور ڈیرھ بگٹی سے لوگ نکل مقانی کر رہے ہیں
صوبہ بلوچستان کے شہر کوہلو سے کوئٹہ آنے والے مری قبیلے کے لوگوں نے بین الاقوامی اداروں اور انسای حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ از خود مداخلت کریں تاکہ بقول ان کے’ بلوچ قوم کی نسل کشی کو روکا جا سکے۔‘

کوئٹہ کے مضافات میں نیو کاہان نامی علاقے کے ایک سکول میں بیس سے پچیس افراد موجود تھے۔ ان میں کم سن بچوں سے لے کر بڑی عمر کے لوگ شامل تھے۔ نیو کاہان میں وہ لوگ آباد ہیں جو نواب خیر بخش مری کے ساتھ افغانستان سے واپس آئے تھے۔

صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے مری قبیلے کے لوگوں نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے فوجی کارروائی کے نام پر بلوچوں کی نسل کشی شروع کر رکھی ہے۔

منگل مری نامی ایک شخص نے کہا ہے کہ انہوں نے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو بمباری کرتے دیکھا ہے جس سے بچے خواتین اور مویشی ہلاک ہوئے ہیں اور ان کے جھونپڑے تباہ ہو گئے ہیں۔

پچاس سال گزرنے کے باوجود سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں لوگ پتھروں پر روٹی پکاتے ہیں اور لکڑی جلا کر کھانا بناتے ہیں وہاں آج بھی گیس نہیں ہے تو کوہلو میں کیا ترقی ہو گی۔
سیف اللہ ایک طالب علم
انہوں نے کہا ہے کہ جن علاقوں میں حملے کیے گئے ہیں وہاں مال مویشی پالنے والے لوگ رہتے تھے لیکن حملوں کی وجہ سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔

مری قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک اور نوجوان نے کہا ہے وہ پہاڑوں پر خفیہ راستوں سے ہوکر دوسرے علاقوں تک پہنچے ہیں جہاں سے وہ کوئٹہ آئے ہیں۔

سیف اللہ نامی ایک طالبعلم نے کہا ہے حکومت مری قبیلے کے علاقے میں موجود تیل گیس اور معدنیات پر قبصہ کرنا چاہتی ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ حکومت ان وسائل کو علاقے کی ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے تو انہوں نے کہا کہ سوئی میں لوگوں نے اپنی مرضی سے گیس نکالنے کی اجازت دی تھی لیکن پچاس سال گزرنے کے باوجود سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں لوگ پتھروں پر روٹی پکاتے ہیں اور لکڑی جلا کر کھانا بناتے ہیں وہاں آج بھی گیس نہیں ہے تو کوہلو میں کیا ترقی ہو گی۔

مقامی سیاست
ضلعی حکومت کے انتخابات میں بالاچ مری کے حمایتی پینل نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔

ان قبائلیوں نے کہا ہے کہ کوہلو میں کوئی قبائلی تنازعہ نہیں ہے لوگ متحد ہیں اور علاقے کی بہتری کے خواہاں ہیں۔

یاد رہے گزشتہ روز صوبائی حکومت اور فرنٹیئر کور کوئٹہ سے کچھ صحافیوں کو کوہلو لے گئے تھے جہاں انہیں سرکاری کارروائی سے آگاہ کیا گیا۔ جس کے بعد ان لوگوں سے ملوایا گیا جنہوں نے کوہلو میں نا معلوم افراد کی جانب سے راکٹ داغنے کے واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ ان میں رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری ملوث ہیں۔ لیکن اس موقع پر کچھ لوگوں نے اپنا موقف پیش کرنا چاہا تو صحافیوں کو ان سے ملنے نہیں دیا گیا اور حکومت کے حمایتی لوگوں نے ان کے ساتھ جھگڑا شروع کر دیا۔

یاد رہے کہ کوہلو کی صوبائی نشست پر بالاچ مری کامیاب ہوئے ہیں اور حالیہ ضلعی حکومت کے انتخابات میں بالاچ مری کے حمایتی پینل نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔

قبائلیکوہلو: چشم دید
کیا ہورہا ہے، کیوں ہورہا ہے؟
کوہلو میں آپریشن
فوجی کارروائی کیا رنگ لائے گی: خصوصی ضمیمہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد