’بلوچستان میں مفادات کی جنگ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’بلوچستان کی آزادی اور حقوق کی جنگ بھٹو دور تک تھی لیکن اب مفادات کی جنگ ہے اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ لڑاکا مریوں کی حمایت کریں یا حکومت کی‘۔ یہ بات ایوب خان اور ذولفقار علی بھٹو کے ادوار میں مری باغیوں کی قیادت کرنے والے شیر محمد عرف جنرل شیروف مرحوم کے بڑے صاحبزادے یوسف مری نے بی بی سی سے ایک ملاقات میں کہی۔ یوسف مری کے خیالات اپنے والد کے برعکس لگے۔ان کا کہنا تھا کہ جب وہ چالیس روز کے تھے تو ان کے والد پہاڑ پر چلے گئے اور جب وہ واپس آئے تو ان کی عمر بارہ برس کے قریب تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میرے والد جب گاؤں پہنچے تو تمام مرد اور بچے قطار میں کھڑے تھے اور ایک ایک سے ہاتھ ملاتے اور پوچھتے کہ تم کس کے بیٹے ہو اور جب انہوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ آپ کا بیٹا ہوں‘۔ یوسف مری کے مطابق ان کے والد چونک گئے اور کہا کہ ’تمہیں کس نے بتایا کہ تم میرے بیٹے ہو تو میں نے انہیں کہا کہ والدہ نے بتایا اور ایک مری نے بھی کہا تھا۔ جس پر ان کے مطابق والد نے کہا کہ اچھا ہوا کسی نے یہ نہیں کہا کہ تم کسی اور کے بیٹے ہو‘۔ جنرل شیروف کو بھٹو دور کے گورنر نواب اکبر بگٹی نے گرفتار کرایا اور ضیا دور میں رہا ہوئے اور انیس سو چھیاسی میں لندن گئے، بعد میں وہاں سے افغانستان چلے گئے اور انیس سو اٹھاسی میں کابل چلے گئے۔ جب افغانستان میں نجیب کی حکومت ختم ہوئی تو جنرل شیروف دلی چلے گئے اور وہاں سے پاکستان آئے اور تھوڑے ہی عرصے بعد علاج کے لیے دوبارہ دلی گئے جہاں گیارہ مئی سن ترانوے کو ان کا انتقال ہوا اور ان کی میت کوہلو میں ان کے آبائی قبرستان میں دفن کردی گئی۔ جنرل شیروف کی نواب خیر بخش مری کے ساتھ تیس سال سے زیادہ رفاقت رہی لیکن کابل میں قیام کے دوران ان کے نواب مری سے اختلافات ہوئے۔ یوسف مری ان اختلافات کے متعلق کچھ بھی بتانے سے گریزاں ہیں اور کہتے ہیں کہ’ نواب سے پوچھیں‘۔ یوسف مری نے بتایا کہ مری قبیلے کی تین ذیلی شاخیں ہیں۔ غزنی ( کاہان)، بجارانی ( کوہلو) اور لوہارانی ( نیساؤ) کے علاقوں میں اثر رسوخ رکھتے ہیں۔ نواب خیر بخش مری غزنی ہیں اور یوسف مری بجارانی ہیں۔ تینوں شاخوں میں بڑی شاخ بجارانی کی ہے اور ان کے مطابق جب بھی غزنی اور بجارانی لڑیں گے تو لوہارانی غزنی کا ساتھ دیں گے اور نتیجتاً میں بجارانی غزنی سے نہیں لڑ سکتا۔ نواب خیر بخش مری ابتدا سے ہی میڈیا سے دور رہتے ہیں اور ان کی جنگجوانہ مہم کے متعلق عام بلوچ سمجھتے ہیں کہ وہ صوبے کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ان کے چھ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ ایک بیٹی سردار عطاء اللہ مینگل کے بیٹے جاوید، دوسری مرزا ابراہیم کے بیٹے پرویز اور تیسری سیف الرحمٰن مزاری کے بیٹے نعیم کے ساتھ بیاہی ہیں جبکہ چھ بیٹوں میں سے سب سے بڑے چنگیز خان کراچی میں رہتے ہیں اور دو بیٹے غزن اور حمزہ ملک سے باہر ہیں۔ البتہ ان کے تین بیٹے بالاچ، حربیار اور زامران والد کے ہمراہ ہیں۔ یوسف مری کہتے ہیں کہ ماضی میں ہونے والی چار بغاوتوں کے دوران نواب خیر بخش مری کو جتنی مری قبیلے کی حمایت حاصل تھی اب اتنی نہیں ہے لیکن اب بھی ان کے حامیوں کی تعداد ہزاروں میں ہیں اور انہیں گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ ان کے مطابق طاقت کے زور پر کبھی مسئلہ حل نہیں ہوگا اور حکومت کو بات چیت سے مسئلہ حل کرنا چاہیے۔ کوئٹہ میں قیام کے دوران ہی سردار خیر بخش مری کے صاحبزادے بالاچ خان مری نے کسی نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ارے بھائی یہ فراری کیمپ نہیں ہیں بلکہ پراری کیمپ ہیں اور پرار بلوچی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے حق کے لیے لڑنے والا‘۔ واضح رہے کہ حکومت ان کیمپوں کے لیے فراری لفظ استعمال کرتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں جرائم پیشہ اور قانون سے فرار اختیار کرنے والے لوگ رہتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’بلوچوں کی نسل کشی روکی جائے‘22 January, 2006 | پاکستان بلوچستان میں جنگ کی کیفیت: رپورٹ22 January, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی میں انیس افراد ہلاک21 January, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی میں ایک بار پھر فائرنگ22 January, 2006 | پاکستان کوہلو: کیا ہورہا ہے، کیوں ہورہا ہے؟21 January, 2006 | پاکستان بلوچ قوم پرستوں کو وارننگ 20 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||