BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بگٹیوں نے قلعہ خالی کردیا‘

ڈیرہ بگٹی
اطلاعات کے مطابق ڈیرہ بگٹی میں مقامی لوگ علاقہ چھوڑ کر جا رہے ہیں
جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ اڑتیس روز کے دفاع کے بعد منگل کو نواب اکبر بگٹی کے آخری ملازمین بھی قلعہ چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اڑتیسس روز میں پچھہتر شہری اور سکیورٹی فورسز کے باسٹھ اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

کوئٹہ میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ اڑتیس روزہ فوجی کارروائی میں پچہتر افراد ہلاک اور دو سو بیالیس زخمی ہوئے ہیں جن میں بیشتر خواتین اور بچے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کے باسٹھ اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے
تاہم سرکاری سطح پر ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

بگٹی قلعہ سے دھماکوں کی آوازوں کے بارے میں شاہد بگٹی نے کہا کہ حکومتی اہلکار جھوٹ بول رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کے قلعے میں پانچ گاڑیاں کھڑی تھیں۔
سکیورٹی فورسز کی گولہ باری سے تباہ ہو گئیں اور آگ پکڑلی جسے اب اسلحہ ڈپو کا نام دیا جا رہا ہے۔

کل رات گئے ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے بتایا کہ نواب اکبر بگٹی کے قلعے سے دھماکوں کی آوازیں آرہی ہیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے وہاں سے بھاگنے والے فراریوں نے خود اسلحے کو آگ لگا دی ہو۔ان کا کہنا تھا کہ قلعہ سے تین لاشیں بھی ملی ہیں۔

عبدالصمد لاسی نے کہا کہ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے سوئی ڈیرہ بگٹی روڈ سے دو افراد کو گرفتار کیا ہے جو بارودی سرنگیں نصب کر رہے تھے۔

نواب اکبر بگٹی نے تیس دسمبر کو سکیورٹی فورسز اور مقابی بگٹی قبائل کے مابین جھڑپیں شروع ہونے سے پہلے قلعہ چھوڑ کر شہر ہی نامعلوم مقام پر منتقل ہو گئے تھے۔

شاہد بگٹی سے جب پوچھا گیا کہ قلعہ خالی کرنے کے بعد اب ڈیرہ بگٹی کی کیا صورت سامنے آئے گی تو انہوں نے کہاکہ یہ معلوم نہیں ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں آئندہ جھڑپیں ہوگی یا نہیں اور اگر ہوں گی تو کس نوعیت کی ہوں گی۔

 رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری کے مطابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار ناجائز گرفتاریاں کر رہے ہیں اور لوگوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں

ادھر کلپر بندلانی قبیلے کے لوگوں کو دوبارہ سوئی میں آبادد کرنے کے بعد پہلے سے آباد لوگ شہر چھوڑ کر دوسرے علاقوں کو جا رہے ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ پہلے سے آباد لوگوں کو تنگ کیا جا رہا ہے جس وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ سوئی سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ کوہلو سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار ناجائز گرفتاریاں کر رہے ہیں اور لوگوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
ڈیرہ بگٹی میں جھڑپیں جاری
01 February, 2006 | پاکستان
بگٹی سمیت 13 کیخلاف مقدمات
01 February, 2006 | پاکستان
ڈیرہ بگٹی سے نقل مکانی شروع
02 February, 2006 | پاکستان
بگٹی قلعے میں دھماکے؟
07 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد