ڈیرہ بگٹی: کشیدگی بڑھنے کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافے کے باعث کشیدگی بڑھنے کاخدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ تحصیل سوئی میں بگٹی قبیلے کی ذیلی شاخ کلپر اور بیکڑ کے علاقے میں مسوریوں کو حکومتی سرپرستی میں بسانے کے بعد اکبر بگٹی کے حامیوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ سوئی میں جلال خان کلپر نے بتایا کہ ان کے ڈھائی سے تین ہزار حامی آباد ہوچکے ہیں جبکہ ڈیڑھ ہزار کے قریب ان کے حامی ابھی متوقع ہیں۔ انہوں نے نواب اکبر بگٹی کو ظالم قرار دیا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے ان کا گھیرا تنگ کیا گیا ہے اور انہیں ان سے نجات ملی ہے۔ جلال خان نے کہا کہ وہ اپنے آبائی علاقوں سے برسوں سے بے دخل رہے اور اب واپس آچکے ہیں۔ کلپر قبیلے کے لوگ جنہیں حکومت واپس لائی ہے ان کے بارے میں نواب اکبر بگٹی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ لوگ مجرم ہیں اور عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں اور انہیں حکومت سرپرستی مہیا کرکے قانون کی سنگین خلاف ورزی کی مرتکب ہورہی ہے‘۔ جلال خان کو ماننے والے کلپر قبیلے کے لوگوں کو سوئی کے انتہائی حفاطتی اقدامات والے علاقے میں آباد کیا گیا ہے اور ان کی دیکھ بھال حکومت کر رہی ہے۔ اس بارے میں ڈیرہ بگٹی کے ضلع رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے بتایا کہ کلپر متاثرین اکبر بگٹی کے مظالم سے تنگ آکر علاقہ چھوڑ گئے تھے اور اب ان کی بحالی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
سوئی میں واقع بگٹی کالونی میں رہنے والے اکبر بگٹی کے حامی کئی خاندان کلپروں کے آنے کے بعد محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر گئے ہیں۔ اس کالونی کے بازار کی کئی دکانیں بند ہیں اور وہاں موجود کچھ لوگوں نے بتایا کہ دو ہزار سے زیادہ افراد سوئی چھوڑ چکے ہیں۔ کلپر قبیلے کے کئی افراد سے ملاقات ہوئی۔ ایک آنکھ سے محروم ساٹھ سالہ الٰہی بخش نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو اکبر بگٹی نے بلاوجہ قتل کرادیا ہے۔ ایک خاتون مورن بی بی نے اپنے بیٹے اور دیور کو آٹھ برسوں سے اغوا کرکے اپنے نجی جیل میں بند کرنے کا الزام بھی اکبر بگٹی پر لگایا۔ عنایت خاتون نے اپنے شوہر کے اغوا اور عبدالحکیم کی ضعیف والدہ نے اپنے بیٹے کے قتل کا ذمہ دار بھی اکبر بگٹی کو قرار دیا۔ ڈیرہ بگٹی شہر میں فرنٹیئر کور کے قلعہ میں رضو بی بی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ موجود تھیں اور انہوں نے بتایا کہ کئی برسوں سے نواب کے کہنے پر انہیں تنگ کیا جاتا رہا اور وہ اپنے آبائی علاقے سے بے گھر ہوگئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جس طرح حکومت اپنی سیکورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ کر رہی ہے اور اکبر بگٹی کے مخالفین کو منظم کر رہی ہے اس آئندہ دنوں میں بڑے خون خرابے کا امکان ہے۔ ایسی صورتحال کی وجہ سے لوگ خاصے خوف زدہ بھی ہیں۔ | اسی بارے میں ڈیرہ بگٹی میں انیس افراد ہلاک21 January, 2006 | پاکستان متحدہ نے رابطہ نہیں کیا: بگٹی24 January, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی: گیس پائپ لائن پر حملہ29 January, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی میں جھڑپیں جاری01 February, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی: چھاؤنی کی تعمیر شروع 02 February, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی: ڈی سی او کے گھر پرحملہ02 February, 2006 | پاکستان بگٹی پر اغواء برائے تاوان کے دو مقدمات03 February, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی میں سترہ راکٹ داغے گئے03 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||