BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 February, 2006, 22:51 GMT 03:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرہ بگٹی: چھاؤنی کی تعمیر شروع

سوئی میں چھاؤنی
سوئی میں فوجی چھاؤنی کی تعمیر کا کام شروع ہے۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں وفاقی حکومت کی جانب سے ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی میں فوجی چھاؤنی کی تعمیر کا کام شروع ہوگیا ہے۔

بلوچستان میں فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر ایک متنازعہ مسئلہ رہا ہے اور بلوچ قوم پرست رہنما ان چھاؤنیوں کی تعمیر کی سخت مخالفت کرتے رہے ہیں۔

وفاقی حکومت صوبہ بلوچستان کے تین شہروں سوئی، گوادر اور کوہلو میں فوجی چھاؤنیاں تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ لیکن تاحال وہ صرف سوئی میں ہی تعمیراتی کام شروع کرسکی ہے۔

جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکریٹری آغا شاہد بگٹی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سوئی میں فوجی چھاؤنی کی تعمیر کے لیے جب ریونیو افسر متین شاہ نے قوائد کے برعکس فوج کو زمین فراہم کرنے سے انکار کیا تو ان کا تبادلہ کر دیا گیا۔

آغا شاہد کے مطابق حکومت نے اپنی من مانی کے لیے سترہ گریڈ کے جونیئر افسر عبدالصمد لاسی کو گریڈ بیس کا چارج دے کر ضلعی رابطہ افسر تعینات کیا اور زمین کے مالکان سے پوچھے بنا کھاتے تبدیل کرکے دو سو ایکڑ زمین چھاؤنی کے لیے الاٹ کردی۔

اس سلسلے میں جب عبدالصمد لاسی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ دو سو نہیں بلکہ چار سو ایکڑ زمین انہوں نے فوجی چھاونی کے لیے الاٹ کردی ہے۔ تاہم ان کے مطابق انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ بھرتی ہونے والے افسر گریڈ انیس اور بیس میں پہنچ گئے ہیں اور وہ ابھی تک گریڈ سترہ میں ہی ہیں کیونکہ محکمانہ امتحان مختلف وجوہات کی بنا پر وہ پاس نہیں کر پائے تھے۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ چالیس کے قریب کھاتہ دار جن کی زمینیں چھاؤنی کے لیے الاٹ کی گئی ہے ان میں سے صرف چند کو پچیس لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں۔

ضلع ڈیرہ بگٹی کے رابطہ افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ باقی رقم ان کے پاس پڑی ہے اور متعلقہ مالکان پیسے لینے نہیں آتے۔ ان کے مطابق زمین مالکان کو اکبر بگٹی نے رقم لینے سے منع کر رکھا ہے۔

اس بارے میں شاہد بگٹی کا کہنا ہے کہ زمین مالکان سے پوچھے بنا اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر بڑے گریڈ میں تعیناتی کی خاطر صمد لاسی نے زمینیں الاٹ کی ہیں اس لیے احتجاجی طور پر لوگ پیسے نہیں لیتے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ترقی کے نام پر چھاونی تعمیر کرکے بلوچوں کو غلام بنانے اور ان کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔

جبکہ ضلعی رابطہ افسر کا دعویٰ ہے کہ چھاؤنی کی تعمیر سے جہاں تعمیر اور ترقی کے راستے کھلیں گے وہاں غریب بلوچوں کی قسمت سنور جائےگی۔

اسی بارے میں
بلوچستان: کانگریس مین کی تشویش
28 January, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد