’دعووں کی تصدیق ممکن نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ضلع سبی میں کاہان کے قریب واقع کرمو وڈھ کے علاقے میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے ’فراری کیمپ‘ ختم کرنے کا دعویٰ مزید مشکوک ہوتا جارہا ہے۔ حکومت نے چند روز قبل یہ دعویٰ کیا تھا کہ فرنٹیئر کور یعنی ’ایف سی، نے کرمو وڈھ میں فراری کیمپ ختم کردیا ہے اور بارودی سرنگ صاف کرکے اب علاقے میں حکومت کا کنٹرول قائم کردیا ہے۔ ایسے دعووں کے بارے میں مقامی سیاسی رہنما پہلے ہی شکوک ظاہر کرتے رہے ہیں کہ وہاں کوئی فراری کیمپ نہیں تھا۔ پیر کی شام جب میں نے مذکورہ علاقے میں جانا چاہا تو تلی کے قریب ایف سی کی چیک پوسٹ پر روک دیا گیا اور آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ’ایف سی، کے ترجمان کرنل حسن جمیل نے کوئٹہ میں رابطہ کرنے پر بتایا کہ کوئی بھی صحافی کسی بھی علاقے میں جاسکتا ہے اور کوئی پابندی نہیں ہے۔ لیکن ایف سی کے اہلکار متاثرہ علاقوں میں جانے نہیں دے رہے۔ بلوچستان کے شورش زدہ ضلع کوہلو کی تحصیل کاہان میں پہاڑوں پر مری قبائل ہیں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ان کی جھڑپیں آئے روز کا معمول ہے۔ ضلع سبی کے آخری علاقے کرمو وڈھ کے بعد کاہان کی حدود شروع ہوتی ہیں۔ سبی سے تقریباً چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر تلی کے قریب واقع ایف سی کی چیک پوسٹ کے انچارج صوبیدار مقام شاہ نے شناختی کارڈ لیا اور اپنے حکام بالا کو تمام تفصیلات بتائیں اور کافی دیر کھڑا رکھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ ’اوپر سے اجازت نہیں ملی اور واپس چلے جائیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ کرمو وڈھ جانے والے راستے پر بارودی سرنگ بچھے ہوئے ہیں۔ لیکن جب انہیں بتایا گیا کہ ہمارے سامنے گاڑیاں اس طرف جارہی ہیں اور ان کے پہیوں کے نشان موجود ہیں اور لوگ بکریوں کے ریوڑ بھی لا رہے ہیں تو اس پر مقام شاہ نے کہا کہ انہیں حکم ملا ہے کہ صحافیوں کو جانے نہ دیں۔ ایف سی کے اہلکاروں نے کرمو وڈھ جانے کی اجازت تو نہیں دی البتہ ان کا رویہ خاصا بہتر تھا۔ متاثرہ علاقوں میں صحافیوں کو جانے سے روکنے کی وجہ سے وہاں حکومت کی جانب سے فراری کیمپ ختم کرنے سمیت مختلف دعووں اور متاثرہ بلوچ ’شرپسندوں‘ کی جانب سے سیکورٹی فورسز پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کی تصدیق ممکن نہیں۔ مقام شاہ نے کہا کہ کرمو وڈھ کے فراری کیمپ تک وہ خود بھی نہیں گئے اور انہیں یہ پتہ نہیں کہ وہاں کیا صورتحال ہے۔ تلی کے رہائشی اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے مقامی رہنما رمضان سیلاچی کا دعویٰ ہے کہ کرمو وڈھ میں کوئی فراری کیمپ تھا ہی نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس علاقے سے کیمپ ختم کرنے کے بارے میں حکومت جھوٹ بول رہی ہے۔ رمضان سیلاچی نے لفظ فراری پر خاصے ناراض ہوئے اور کہا کہ یہ لفظ فراری نہیں بلکہ پراری ہے اور بلوچی زبان میں لفظ پراری حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد کرنے والے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کوئٹہ سے سبی شہر میں داخل ہونے والی ہر گاڑی کی جامع تلاشی لی جاتی ہے اور وہاں فوج کا ناکہ لگا ہوا ہے۔ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں سیکورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے ہیں اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں حفاظتی اقدامات کے آڑ میں تنگ کیا جاتا ہے۔ سبی کے کئی علاقوں میں قائم ’ایف سی، کی چیک پوسٹوں پر موجود کچھ اہلکار شلوار قمیض میں موجود ہوتے ہیں جبکہ کچھ فوجی وردیوں میں ملبوس ہوتے ہیں۔ اس بارے میں ایف سی والے کہتے ہیں کہ وردی سے کوئی فرق نہیں پڑتا سب ایک ہی ہیں۔ مختلف وردیاں پہنے ہوئے ’ایک ہی فورس‘ یعنی ایف سی کے اہلکاروں کو دیکھنے کے بعد بلوچستان کے بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کو تقویت ملتی ہے کہ فوج آپریشن کر رہی ہے۔ ان کے ایسے دعووں کی حکومت تردید کرتی رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ فوج نہیں بلکہ نیم فوجی دستے یعنی ایف سی کارروائی کر رہی ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان میں جھڑپیں اور دھماکے20 January, 2006 | پاکستان فوجی آپریشن کے خلاف مظاہرے23 January, 2006 | پاکستان سوئی میں پائپ لائن اڑا دی گئی 24 January, 2006 | پاکستان بلوچستان: اوچ پاور پلانٹ پر حملہ29 January, 2006 | پاکستان بلوچستان: 3 فوجی،12قبائلی ہلاک11 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||