ڈیرہ بگٹی: گیس پائپ لائن پر حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں لوٹی گیس پلانٹ کے کنویں اور پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے جس سے گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ ڈیرہ بگٹی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق لوٹی کے علاقے میں رات گئے جھڑپیں ہوئی ہیں اور دونوں جانب سے متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ صبح سویرے مسلح افراد نے قریبی کیمپ سے میزائل اور راکٹ داغے ہیں جولوٹی گیس پلانٹ کے کنواں نمبر چھ اور گیس پائپ لائن کو لگے ہیں جس سے کنواں بند ہو گیا ہے اور تقریباً اٹھارہ فٹ پائپ لائن تباہ ہو گئی ہے۔ اس پلانٹ سے بجلی پیدا کی جا رہی تھی اور مقامی سطح پر گیس بھی فراہم کی جا رہی تھی جو اس کارروائی سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ نیم شب کے وقت فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے اندھا دھند گولہ باری شروع کر دی جس سے گیس پائپ لائن اور کنویں کو نقصان پہنچا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اس علاقے میں قریبی کوئی فراری کیمپ ہے جہاں سے مسلح افراد نے حملے کیے ہیں تو انہوں نے کہا کہ حکومت نے فراری کیمپ کا ہوا کھڑا کیا ہوا ہے، ان علاقوں میں کوئی فراری کیمپ نہیں ہیں۔ مقامی لوگ اگر زیادتیوں کا جواب دیتے ہیں تو یہ دوسری بات ہے وگرنہ وہاں بگٹی کمزور لوگ ہیں طاقتور تو حکومت ہے۔ عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ لوٹی سے روزانہ چھتیس ملین مکعب فٹ گیس پیدا کی جا تی ہے اب اس کارروائی سے دو ملین مکعب فٹ گیس کم ہو گئی ہے جس سے ملکی سطح پر بھی گیس کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ لوٹی گیس پلانٹ سے گیس پیر کوہ گیس پلانٹ جاتی ہے جہاں سے سوئی گیس فیلڈ میں ’پیوریفیکیشن پلانٹ‘ سے گزر کر گیس دو بڑی پائپ لائنوں میں تقسیم کر دی جاتی ہے۔ ایک لائن سندھ اور بلوچستان کے لیے سوئی سدرن گیس کو فراہم کی جاتی ہے اور دوسری سوئی ناردرن گیس کو دی جاتی ہے۔ اوچ گیس پلانٹ سے گیس اوچ پاور پلانٹ کو دی جاتی ہے جس سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان: پانی کی پائپ لائن پر دھماکہ28 January, 2006 | پاکستان بلوچستان ہائی کورٹ جج پر حملہ27 January, 2006 | پاکستان ’گیارہ بگٹی مخالف اغوا‘27 January, 2006 | پاکستان بلوچستان: ریل کی پٹڑی پر دھماکہ26 January, 2006 | پاکستان بارودی سرنگ پھٹنے سے چھ ہلاک25 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||