نڑ ساز کی جگہ تھرایا فون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے مری قبیلے کے لوگوں نے چھاپہ مار جنگ یعنی گوریلا کارروائیوں میں وقت کے ساتھ ساتھ جدت پیدا کردی ہے اور اب مخصوص آوازوں کے ذریعے رابطہ کرنے کی جگہ سیٹیلائٹ فون نے لے لی ہے۔ یہ بات بلوچستان کی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر اسحاق بلوچ نے گزشتہ دنوں کوئٹہ میں ہونے والی ملاقات میں بتائی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دنوں میں جب مری قبائل پہاڑ پر چلے گئے تھے اور گوریلا کارروائیاں کرتے تھے تو ان دنوں ریڈیو پاکستان کے ذریعے انہیں مخصوص انداز میں بیغامات ملتے تھے۔ ڈاکٹر اسحاق کے مطابق بین اور بانسری کی طرز کا ساز نڑ مری قبیلے کے لوگ بڑا زبردست بجاتے ہیں اور مری قبائل کے خلاف کارروائیوں کے دنوں میں ریڈیو پاکستان کوئٹہ سے نڑ بجانے والے مری مختلف دھنیں بجاتے ہوئے شہر کے حالات اور حکومتی منصوبہ بندیوں کے بارے میں پہاڑ پر چھپے اپنے لوگوں کو معلومات اور پیغامات دیتے تھے۔ ڈاکٹر اسحاق بلوچ کی بات کی تائید جنرل شیروف کے بیٹے یوسف بلوچ نے بھی کی اور بتایا کہ انہیں ان والد بتاتے تھے کہ نڑ بجانے والوں کے پیغامات کو سمجھنے کے لیے بزرگ مری ہی وہ سمجھ سکتے تھے اور بعد میں تمام لڑاکا لوگوں کو ان کی روشنی میں ہدایات جاری ہوتی تھیں۔ دونوں بلوچ رہنماؤں کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ آج کل جنگجو مری قبائل کے کمانڈرز کا آپس میں رابطہ تھورایا سیٹیلائٹ فون نے آسان کردیا ہے۔ لیکن ان کے مطابق اب بھی پہاڑ پر لڑنے والے مری لوگ مخصوص انداز میں آوازیں نکال کر ایک دوسرے کو پیغامات دیتے ہیں۔
انہوں نے مثال دے کر بتایا کہ ایک پہاڑ پر موجود مری جب بھی کسی اجنبی کو دیکھتا ہے تو مخصوص انداز میں آواز نکالتا ہے اور ان کا قریبی ساتھی سننے کے بعد اپنے سے دور ساتھی کو مطلع کرتا ہے اور یہ سلسلہ چلتا ہے۔ ان کے مطابق اپنے آدمیوں کے بارے میں اور دشمن کے متعلق آوازیں مختلف ہوتی ہیں۔ بلوچ رہنماؤں نے بتایا کہ بگٹی قبائل کی نسبت مری قبائل کی جنگی صلاحیت، حکمت عملی، تجربہ اور مہارت خاصی وسیع ہے۔ ان کے مطابق مری قبائل کی گوریلا کارروائیوں سے انگریز بھی تنگ آچکے تھے اور جب انگریز نے ان سے صلح کرلی تو بعد میں مریوں کی جنگی واردات کے بارے میں تحقیق کرکے ایک کتاب لکھی تھی اور کوئٹہ کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں اس بارے میں انگریز کے دور سے ہی اسے پڑھایا بھی جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بگٹی قبیلے کے لوگوں پر ایک فائر ہوتا ہے تو وہ جواب میں برسٹ مارتے ہیں جبکہ مریوں پر اگر برسٹ فائر کیا جائے تو وہ اس وقت تک گولی نہیں چلاتا جب تک انہیں یقین نہ ہو کہ ان کی گولی ضائع نہیں جائے گی۔ ان کے مطابق نشانہ بازی کے اعتبار سے بگٹی بھی ماہر ہیں لیکن مری لوگ بھی کمال کے نشانہ باز ہیں۔ ڈاکٹر اسحاق بلوچ اور یوسف مری نے بتایا کہ مری لوگوں کے پاس بارودی سرنگ بچھانے، بم بنانے اور میزائیل تیار کرنے کا تجربہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واشنگ مشین کے ’ٹائمر، کے ساتھ ’ٹائم بم، بناتے ہیں جبکہ راکٹ اور میزائیل وغیرہ کو تھورایا سیٹ فون کے ذریعے چلاتے ہیں اور اپنے حدف کو نشانہ بناتے ہیں۔ یوسف مری نے بتایا کہ مری لوگ پہاڑ کے بادشاہ ہیں۔ ماضی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے اپنے بزرگوں کے حوالے سے بتایا کہ یہ لوگ تین سے چھ ماہ تک نہاتے بھی نہیں اور کئی دن بھوک اور پیاس پر گزارا کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق مری ہمیشہ طویل پہاڑی سلسلے کا انتخاب کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے تجربے کی روشنی میں جدید ترین اسلحہ سے مسلح پاکستانی افواج اور مری قبائل کے درمیاں لڑائی کی صورت میں دعویٰ کیا کہ ابتدا میں نقصان فوج کا زیادہ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ مریوں سے لڑنے جو بھی پہاڑ پر جائے گا وہ نقصان اٹھائے گا۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||