BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 January, 2006, 12:34 GMT 17:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: کانگرس مین کی تشویش

بلوچستان
واشنگٹن میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال موضوع بحث بنی ہوئی ہے
امریکی کانگرس کے رکن ٹام ٹینکریڈو نے سیکرٹری خارجہ کونڈا لیزا رائس سے پاکستان میں بلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان پر زور دیا ہےکہ مارچ میں صدر بش کو ان کے ہندوستان اور پاکستان کے دورے کے دوران یہ مسئلہ پاکستانی صدر مشرف کے ساتھ اٹھانا چاہیے۔

یہ باتیں ریپبلیکن رکن کانگرس نے سیکرٹری کونڈالزا رائس سے اپنے ایک خط میں کہی ہے۔

اپنے اس خط میں کولاراڈو ریاست سے منتخب رکن کانگرس ٹام ٹینکریڈو نے کہا ہے کہ حال ہی میں مجھے بلوچستان میں گزشتہ مہینے شروع کیے جانےوالے آپریشن کے متعلق بتایا گیا ہے۔

جہاں تک میں سمجھتا ہوں تو گذشتہ دسمبر میں پاکستان کے صوبے بلوچستان کے علاقوں ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے گن شپ ہیلی کاپٹر اور دیگر جدید ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

معتبر اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اس سے بہت سے بيگناہ شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

کانگرس مین ٹام ٹینکریڈو نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی طرف سے ڈیرہ بگٹی اور اس کے اطراف سے اکھٹے کیے گئے حقائق کا حوالہ بھی دیا اور اس کی انہوں نےامریکی سیکرٹری خارجہ کو اپنے خط میں مخاطب کرتے ہوئےکہا ہے کہ’ وہ جانتے ہیں کہ بلوچستان میں مسلح مزاحمت ہے جسے کسی بھی قیمت پر معاف نہیں کیا جاسکتا چاہے وہ کسی بھی گروپ کی طرف سے کی جارہی ہو لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی مرکزی حکومت کی جانب سے لوگوں کے جائز مطالبات کے جواب طاقت کے استعمال نے نہ ہی ماضی میں نتائج دیے ہیں اور نہ ہی اس سے اب کوئی حل نکلنے والا ہے جبکہ بلوچستان کے موجودہ حالات مرکزی حکومت اور بلوچ عوم کے درمیاں مذاکرات کے ہی متقاضی ہیں جن سے مسائل کا مستقل حل ممکن ہو سکتا ہے اور ایسی کوششوں کے بغیر وہاں خون خرابہ روکنے کا کوئی اور حل نہیں‘۔

’میں اس حقیقت سے انکار نہیں کرتا کہ حکومت پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کی اہم اور قریبی حلیف ہے لیکن وہ فوجی وسائل جن کا رخ بلوچستان میں آپریشن کی طرف موڑا گیا ہے وہ القائدہ اور دیگر دہشت گرد گروپوں کی بیخ کنی پر صرف کیے جا سکتے تھے‘۔

بلوچستان کا حل مذاکرات میں ہی پوشیدہ ہے

اپنے خط کے آخر ميں انہوں نے سیکرٹری خارجہ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق صدر بش مارچ میں بھارت پاکستان کا دورہ کریں گے تو وہ پاکستان کے صدر مشرف سے اپنی ملاقات کے دوران بلوچستان کا مسئلہ ضرور اٹھائيں تاکہ اس تصادم اور انسانی جانوں کی ضیاع کو روکا جاسکے-

حالیہ دنوں میں واشنگٹن میں پاکستان میں بلوچستان کی موحودہ صورتحال اور وہاں مبینہ فوجی آپریشن بہت سے حلقوں میں ایک سنجیدہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

امریکی سرکاری ریڈیو وائس آف امریکہ پر بلوچستان کی صورت حال پر مذاکرہ ہوا ہے جس میں بلوچستان کی پھاڑوں میں اپنے خفیہ ٹھکانے سے بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی نے بھی بذریعہ سیٹلائٹ فون شرکت کی ہےاس کے علاوہ کارنیگی انسٹیٹیوٹ کی طرف سے بلوچستان پر ایک سے زیادہ تحقیقی پیپر بھی شائع ہوچکے ہیں۔

ہیرو اور اینٹی ہیرو
بھٹو میں منصور اور میکاولی ساتھ رہتے تھے
 منو بھیل منو بھیل کا احتجاج
گذشتہ ایک ہ‍زار پچاس دنوں سے احتجاجی دھرنا
مختار مائی نیویارک میں ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد اپنی مترجم کے ہمراہمائی کا عزم
مجھے ظلم کو علم سے ختم کرنا ھے: مختار مائی
اکبر بگٹی’بلوچ قربانی‘
گولی کا جواب گولی سے: حسن مجتبیٰ کا کالم
ظفریاب عجیب مانوس اجنبی
ظفریاب منیر نیازی کی نظموں کی طرح تھا
اسی بارے میں
دھرتی ماں کو بھوک لگی تھی
12 November, 2005 | قلم اور کالم
مائی نے نیویارک کا دل جیت لیا
03 November, 2005 | قلم اور کالم
اللہ، آرمی اور کشمیر
23 October, 2005 | قلم اور کالم
ہیرو اور اینٹی ہیرو
06 January, 2006 | قلم اور کالم
’بلوچستان میں قربانی‘
11 January, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد