بلوچستان: کانگرس مین کی تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کانگرس کے رکن ٹام ٹینکریڈو نے سیکرٹری خارجہ کونڈا لیزا رائس سے پاکستان میں بلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان پر زور دیا ہےکہ مارچ میں صدر بش کو ان کے ہندوستان اور پاکستان کے دورے کے دوران یہ مسئلہ پاکستانی صدر مشرف کے ساتھ اٹھانا چاہیے۔ یہ باتیں ریپبلیکن رکن کانگرس نے سیکرٹری کونڈالزا رائس سے اپنے ایک خط میں کہی ہے۔ اپنے اس خط میں کولاراڈو ریاست سے منتخب رکن کانگرس ٹام ٹینکریڈو نے کہا ہے کہ حال ہی میں مجھے بلوچستان میں گزشتہ مہینے شروع کیے جانےوالے آپریشن کے متعلق بتایا گیا ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں تو گذشتہ دسمبر میں پاکستان کے صوبے بلوچستان کے علاقوں ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے گن شپ ہیلی کاپٹر اور دیگر جدید ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ معتبر اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اس سے بہت سے بيگناہ شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ کانگرس مین ٹام ٹینکریڈو نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی طرف سے ڈیرہ بگٹی اور اس کے اطراف سے اکھٹے کیے گئے حقائق کا حوالہ بھی دیا اور اس کی انہوں نےامریکی سیکرٹری خارجہ کو اپنے خط میں مخاطب کرتے ہوئےکہا ہے کہ’ وہ جانتے ہیں کہ بلوچستان میں مسلح مزاحمت ہے جسے کسی بھی قیمت پر معاف نہیں کیا جاسکتا چاہے وہ کسی بھی گروپ کی طرف سے کی جارہی ہو لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی مرکزی حکومت کی جانب سے لوگوں کے جائز مطالبات کے جواب طاقت کے استعمال نے نہ ہی ماضی میں نتائج دیے ہیں اور نہ ہی اس سے اب کوئی حل نکلنے والا ہے جبکہ بلوچستان کے موجودہ حالات مرکزی حکومت اور بلوچ عوم کے درمیاں مذاکرات کے ہی متقاضی ہیں جن سے مسائل کا مستقل حل ممکن ہو سکتا ہے اور ایسی کوششوں کے بغیر وہاں خون خرابہ روکنے کا کوئی اور حل نہیں‘۔ ’میں اس حقیقت سے انکار نہیں کرتا کہ حکومت پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کی اہم اور قریبی حلیف ہے لیکن وہ فوجی وسائل جن کا رخ بلوچستان میں آپریشن کی طرف موڑا گیا ہے وہ القائدہ اور دیگر دہشت گرد گروپوں کی بیخ کنی پر صرف کیے جا سکتے تھے‘۔
اپنے خط کے آخر ميں انہوں نے سیکرٹری خارجہ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق صدر بش مارچ میں بھارت پاکستان کا دورہ کریں گے تو وہ پاکستان کے صدر مشرف سے اپنی ملاقات کے دوران بلوچستان کا مسئلہ ضرور اٹھائيں تاکہ اس تصادم اور انسانی جانوں کی ضیاع کو روکا جاسکے- حالیہ دنوں میں واشنگٹن میں پاکستان میں بلوچستان کی موحودہ صورتحال اور وہاں مبینہ فوجی آپریشن بہت سے حلقوں میں ایک سنجیدہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ امریکی سرکاری ریڈیو وائس آف امریکہ پر بلوچستان کی صورت حال پر مذاکرہ ہوا ہے جس میں بلوچستان کی پھاڑوں میں اپنے خفیہ ٹھکانے سے بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی نے بھی بذریعہ سیٹلائٹ فون شرکت کی ہےاس کے علاوہ کارنیگی انسٹیٹیوٹ کی طرف سے بلوچستان پر ایک سے زیادہ تحقیقی پیپر بھی شائع ہوچکے ہیں۔ |
اسی بارے میں دھرتی ماں کو بھوک لگی تھی12 November, 2005 | قلم اور کالم مائی نے نیویارک کا دل جیت لیا03 November, 2005 | قلم اور کالم اللہ، آرمی اور کشمیر23 October, 2005 | قلم اور کالم ہیرو اور اینٹی ہیرو06 January, 2006 | قلم اور کالم ’بلوچستان میں قربانی‘11 January, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||