مائی نے نیویارک کا دل جیت لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختار مائی نے نیویارک میں خاتونِ سال کا ایوارڈ مشہور اداکارہ بروک شیلڈ کے ہاتھوں وصول کیا ہے۔ بدھ کی شام نیویارک کے لنکن سینٹر میں ’گلیمر میگزین‘ کی تقریب میں شریک دو ہزار افراد سے مختار مائی نے پاکستان اور اسکے زیرِ انتظام کشمیر میں زلزلے کے متاثرین خواتین اور بچوں کی امداد اور بحالی میں پاکستان کی مدد کی اپیل کی۔ گلیمر میگزین نے اپنے آنیوالے ماہ دسمبر کے شمارے میں مختار مائی کو دنیا کی بہادر ترین عورت قرار دیا ہے۔ آجکل امریکہ کا دورہ کرنیوالی مختار مائی کی میزبان اور تنظیم ’ایشین امریکن نیٹ ورک اگینسٹ ابیوز آف ہیومن رائٹس‘ یا آنا کی صدر ڈاکثر آمنہ بٹر نے جو خود بھی اس تقریب میں مدعو تھی، رابطہ کرنے پر نیویارک سے بدھ کو رات گئے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ اداکارہ بروک شیلڈ کے ہاتھوں جب مختار مائی کا ایوارڈ لینے کیلیے نام پکارا گیا تو تقریب میں موجود تمام شرکاء ایک مرتبہ اپنی نشستوں سے سات منٹ تک کھڑے ہوکر مختار مائی کے احترام و استقبال میں تالیاں بجاتے رہے اور دوسری مرتبہ جب مائی نے اپنے مخصوص انداز میں سرائیکی زبان میں تقریر ختم کی اور اس کا اسکا انگریزی ترجمہ کیا گیا تو ان کے اپنی نشست پر واپس بیٹھنے تک تمام شرکاء تقریب پانچ منٹ تک اپنی نشستوں سے اٹھ کر تالیاں بجاتے رہے۔ اس سے قبل یہ ایوارڈ مختار مائی کو سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے ہاتھوں دیا جانا تھا۔ ’مجھے ظلم کو علم سے ختم کرنا ہے اور اسی طرح ہی ظلم کو علم سے ختم کیا جاسکتا ہے‘، مختار مائی نے سامعین سے اپنے مخصوص لیکن مختصر جملوں پر مبنی تقریر میں کہا - ’عجب بات ہے کہ وہ خود سے کیے گئے سواالوں کے جوابات محض سرائیکی زبان میں دیتی ہے لیکن پھر بھی اسکی بات لوگوں کو رلا دیتی ھے‘، یہ بات مختاراں مائی کے امریکی دورے کی رپورٹنگ کرنے والے ایک صحافی نے کی جس نے اسکا مشاہدہ وہاں ڈی پال یونیورسٹی میں مختار مائی کو دیے جانیوالے اس استقبالیے کی تقریب میں کیا جہاں سریندر نامی ایک سکھ خاتون مختار مائی کی باتیں سنکر رونے لگی تھیں۔ گلیمر میگزین کے تقریب میں مختار مائی نے اپنی تقریر کے دوران خاص طور پر ’نیویارک ٹائمز‘ کے کالم نگار نکولس کریسٹوف کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے مختار مائی مائی پر مضامین لکھ کر دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ مختار مائی کے ساتھ ہونیوالی زیادتی اور اسکی اپنے گاؤں میروالہ میں تعلیم پھیلانے کے کام اور ملک میں عورتوں کے حقوق کیلیے اسکے ڈٹ جانے کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ نیویارک سے نکلنے والے جریدے ’گلیمر میگزین‘ کی طرف سے ’وومن آف دی ایئر‘ یا خاتونِ سال کا ایوارڈ لینے والیوں میں مختار مائی کے علاوہ آئیرلنیڈ کی سابق وزیر اعظم میری رابنسن، ہالی وڈ اداکارہ کیتھرین زیتا جونز اور گولڈی ہان، صحافی کرسٹینا امانپور اور نیو اورلیئنز میں آنیوالے کترینا طوفان میں متاثرین کی مدد کرنیوالی سات خواتین بھی شامل تھیں۔
’لیکن جو پذیرائی اور استقبال مختار مائی کو ملا ہے وہ اعزاز اور عزت پاکستان کی غریب اور مظلوم عورت کی ہے‘، ڈاکٹر آمنہ بٹر نے بتایا- جبکہ تنظیم آنا کے بانی ممبر ڈاکٹر ظفر اقبال نے ایریزونا سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے اپنی بات چیت میں کہا ’مختار مائی کے عزم نےثابت کر دیا ہے پاکستان میں آج بھی عام آدمی حالات اور سوچ بدل سکتا ہے‘۔ آئرلینڈ کی سابقہ وزیر اعظم میری رابنسن نے کہا کہ جس بہادری سے مختار مائی نے ظلم اور تشدد کا مقابلہ کیا ہے شاید ہی کوئی کرسکتا۔ تقریب میں ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے امریکہ کے صدر کے عہدے کے سابق امیدوار اور نائب صدر ایلگور کی اہلیہ ٹپر ایلگور اور ان کی بیٹی مختار مائی کے ساتھ اسکے بعد گلیمر میگزین کی طرف سے دیے جانیوالے عشایے میں سارا وقت مختار مائی کے ساتھ ان کی میز پر موجود رہیں۔ ڈاکٹر آمنہ بٹر نے بتایا کہ اگرچہ اس عشایے کا مینو چائنیز کھانے تھا لیکن مختار مائی اور ان کی ہمسفر دوست اور ان کے آنا کے میزبانوں کیلیے پاکستانی یا ’دیسی‘ کھانوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تقریب سے قبل شرکاء کی ایک بہت بڑی تعداد نے مختار مائی کی ساتھ تصویریں کھینچوائیں۔ مختار مائی نے اپنے نیویارک کے قیام کے دوران صبح کے مشہور ٹی وی شو یا پروگرام ’ گڈ مارننگ امیریکہ‘ میں پانچ منٹ شرکت بھی کی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||