مختار مائی کے لیے ’گلیمر ایوارڈ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مظفر گڑھ کے گاؤں میر والہ میں تین برس قبل مبینہ طور پر پنچایت کے حکم پر اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد حصول انصاف کی جدوجہد کے حوالے سے شہرت پانے والی دیہاتی خاتون مختار مائی ایک ایوارڈ وصول کرنے کے لیے امریکہ روانہ ہو گئی ہیں۔ امریکہ سے شائع ہونے والے ’گلیمر میگزین‘ نے مختار مائی کو سال دو ہزار پانچ کے لیے خواتین کی اس فہرست میں شامل کیا ہے جن کے بارے اس کے ادارتی بورڈ کا خیال ہے کہ انہوں نے رول ماڈل کا کردار ادا کرتے ہوئے دنیا بھر کی خواتین کو متاثر کیا ہے۔ گلیمر میگزین سال انیس سو نوے سے ہر سال دس کے قریب خواتین یا خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں کو ’گلیمر ایوارڈ‘ دیتا ہے۔اب تک یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی ڈیڑھ سو کے قریب خواتین میں سابق امریکی خاتون اوّل ہیلری کلنٹن، سابق امریکی وزیر خارجہ میڈیلین البرائٹ، پاپ سنگر میڈونا، ٹینس سٹار مارٹینا نارواٹیلوا، مونیکا سیلز، ہیری پوٹر سیریز کی مصنفہ جے کے رولنگ اور اردن کی ملکہ نور شامل ہیں۔ مختار مائی غالباً جنوبی ایشیا سے پہلی اور ملکہ نور کے بعد دوسری مسلمان خاتون ہیں جنہیں گلیمر ایوارڈ دیا جارہا ہے۔گلیمر میگزین کی انتظامیہ نے مختار مائی کو اپنے گاؤں میں خواتین کی بہتری کے لیے کام کرنے کے لیے بیس ہزار امریکی ڈالر کی امداد دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ گلیمر ایوارڈ دینے کی تقریب دو نومبر کو نیو یارک کے لنکن سنٹر میں منعقد ہوگی۔ یاد رہے کہ اسی سال ماہ جون کے دوران مختار مائی کو خواتین کے حقوق کے حوالے سے امریکہ میں کام کرنے والی پاکستانی ڈاکٹروں کی ایک تنظیم ’ انا ‘ نے امریکہ آنے کی دعوت دی تھی لیکن پاکستانی حکومت نے ان کے باہر جانے پر پابندی لگا دی تھی۔ مختار مائی کے بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی کے فیصلے پر پاکستانی حکومت خصوصاً صدر جنرل پرویز مشرف کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم جنرل مشرف نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ مختار مائی کے باہر جانے سے پاکستان کا بیرونی دنیا میں ’ امیج ‘ خراب ہونے کا احتمال تھا۔ بعد میں بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں مختار مائی کا نام ان لوگوں کی فہرست سے تو نکال دیا گیا جن کے بیرون ملک سفر پر پابندی ہے لیکن ساتھ ہی ان کا پاسپورٹ قبضے میں کر لیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ پہلے امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا کرسٹینا روکا اور پھر وزیر خارجہ ڈاکٹر کونڈلیزا رائس نے مختار مائی کی آزادانہ نقل و حرکت پر لگائی جانے والی پابندیوں پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ صدر مشرف نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران ایک بار پھر خود کو مشکل صورتحال میں مبتلا کر لیا تھا جب اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے مختار مائی اور ڈاکٹر شازیہ خالد کے ساتھ ہونے والے جنسی زیادتی کے واقعات کے حوالے سے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے مبینہ طور پر کہہ دیا کہ پاکستان میں’ زنا باالجبر ‘ ایک کاروبار بن چکا ہے اور بہت سے لوگ کہتے ہیں اگر لکھ پتی بننا ہے یا کینیڈا کی شہریت حاصل کرنی ہے تو خود کو ریپ کرالو۔ جنرل مشرف نے بعد میں تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایسے ’ بے ہودہ ‘ اور ’بے وقوف ‘ نہیں کہ ایسا بیان دیں۔ تاہم واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ویب سائٹ پر صدر مشرف کے متعلقہ بیان کا آڈیو کلپ چسپاں کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ پاکستانی صدر کا بیان من و عن شائع کیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||