’پابندی ملکی مفاد میں لگائی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ انھوں نے اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی مختار مائی کے ملک سے باہر جانے پر پابندی بہترین قومی مفاد میں لگائی تھی کیونکہ ان کے خیال میں اگر وہ امریکہ چلی جاتیں تو اس سے پاکستان کی ساکھ بین الاقوامی سطح پر خراب ہو جاتی۔ جنرل مشرف کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مختار مائی کا امریکہ جانا مخصوص مفاد کے تحت پاکستان کو بدنام کرنے کی غرض سے تھا نہ کہ اس میں مختار مائی کی مدد کرنا مقصود تھا۔ تاہم جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ مختار مائی کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنی ویب سائٹ پر مختار مائی کے مسئلے پر لوگوں کے ای میلز کے جواب میں لکھا ہے کہ انہیں اس سلسلے میں کافی ای میلز موصول ہوئی ہیں جس میں حکومت پاکستان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے مختار مائی کو امریکہ جانے سے روکا اور ان کو حراست میں رکھا۔ جنرل پرویز مشرف نے ای میل بھیجنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کی حکومت کو اس سلسلے میں مورد الزام ٹھہرایا ہے جبکہ صدر کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد صرف پاکستانی معاشرے تک محدود نہیں ہے بلکہ ایسا دنیا بھر میں ہوتا ہے اور یہ انسانیت کے نام پر ایک دھبہ ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے مختار مائی کو امریکہ نہ جانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے فیصلے کی غلط تشریح کی گئی ہے اور یہ تصور کر لیا گیا کہ پاکستان کی حکومت مختار مائی کی انصاف کے حصول کی جدوجہد میں ان کے ساتھ نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے۔ صدر نے امریکہ کی انسانی حقوق کی تنظیم انا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس نے مختار مائی کو امریکہ آنے کی دعوت دی تھی، اور کہا کہ اس کانفرنس کے آرگنائزر کو دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کو زیر بحث لانا چاہئے تھا نہ کہ صرف پاکستان کو اس سلسلے میں سنگل آؤٹ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت کی خواتین پر تشدد کے خلاف کوششوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ وہ قطعی طور پر کہتے ہیں کہ مختار مائی کسی سے کہیں بھی ملنے اور کچھ بھی کہنے کے لئے آزاد ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کو مختار مائی کی ملک سے محبت پر پورا اعتماد ہے۔ صدر نے پاکستان کی حکومت کے ناقدین کے جواب میں کہا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ پاکستان کی حکومت کی ان کوششوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ناقدین نے حکومت پر خواتین کے حوالے سے تنزل پذیری کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان میں ایک ایسی بین الاقوامی کانفرنس منعقد کریں جس میں دنیا بھر سے مظلوم خواتین کو بلایا جائے اور دنیا بھر میں خواتین پر مظالم کے خاتمے کے بارے میں اقدامات تجویز کئے جائیں نہ کہ ایک ملک کو سنگل آؤٹ کیا جائے۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ انہوں نے ہمیشہ طاقتور گروپوں کی جانب سے خواتین کی بے عزتی کی مذمت کی ہے اور حکومت اس کا مداوا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے روایت پسند معاشروں کی طرح ہمارے معاشرے میں بھی بدقسمتی سے یہ رواج ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت تمام تشدد کے شکار افراد بشمول مختار مائی کے انصاف کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||