مختار مائی کا پاسپورٹ واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے بارہ دن قبل قبضے میں لیا گیا مختار مائی کا پاسپورٹ دوبارہ ان کے حوالے کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اتوار کی شب جب مختار مائی اور ان کی قریبی ساتھی نسیم غزلانی اسلام آباد پہنچیں تو انہیں ظلم کا شکار خواتین کے لیے بنائی گئی پناہ گاہ ’ویمن کرائسسز سنٹر‘ لے جایا گیا جہاں وزارت داخلہ کا ایک اہلکار ان کا منتظر تھا۔ مختار مائی طے شدہ پروگرام کی نسبت اسلام آباد خاصی تاخیر سے پہنچیں لیکن وزارت داخلہ کا اہلکار اس دوران کرائسسز سنٹر میں مسلسل ان کا انتظار کرتا رہا اور جب وہ رات کو دو بجے کے قریب وہاں پہنچیں تو اس نے بغیر کوئی وقت ضائع کیئے ان کا پاسپورٹ ان کے حوالے کردیا۔ مختار مائی اور نسیم نے اتوار کی دوپہر جہاز کے ذریعے ملتان سے اسلام آباد پہنچنا تھا لیکن تکنیکی خرابی کے باعث حکام کو مذکورہ پرواز منسوخ کرنا پڑی اور دونوں خواتین کو انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کے تحت سڑک کے راستے وفاقی دارالحکومت روانہ کیا گیا تھا جہاں سپریم کورٹ آف پاکستان پیر کے روز ان کی اپیل سننے جارہی۔ لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ نے اسی سال تین مارچ کو مختار مائی اجتماعی زیادتی کیس میں موت کی سزا پانے والے چھ میں سے پانچ ملزموں کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ مختار مائی نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں حکومت نے مختار مائی کو امریکہ جانے سے روکنے کے لیے ان کا نام ان لوگوں کی فہرست میں شامل کردیا تھا جن کے بیرون ملک سفر پر پابندی ہے۔ تاہم بعد ان کا نام اس فہرست سے تو نکال دیا گیا لیکن ساتھ ہی ان کا پاسپورٹ قبضے میں کر لیا گیا تھا۔ حکومت کے اس فیصلے پر اندرون ملک اور بیرون ملک کڑی تنقید کی گئی لیکن صدر جنرل پرویز مشرف نے اس کا دفاع کرتے ہوئےکہا تھا کہ یہ فیصلہ ان کا تھا کیونکہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ کچھ غیر سرکاری بین الاقوامی تنظیمیں مختار مائی کو امریکہ لے جا کر پاکستان کو بدنام کرنا چاہتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||