’ہائی کورٹ کا فیصلہ مفروضوں پرمبنی تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی پنجاب کے گاؤں میر والا میں مبینہ طور پر پنچایت کے حکم پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی کے مقدمے کی سماعت کے پہلے روز اٹارنی جنرل آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ مفروضوں پر مبنی تھا۔ سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر ایک میں جو، غیر ملکی سفارتکاروں، غیر سرکاری تنظیموں اور سحافیوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا، اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے مقدمے کی ابتدائی سماعت کے موقع پر بات کرتنے ہوئے کہا کہ اجتماعی زیادتی کے واقعات میں صرف زیادتی کا شکار ہونے والی کا بیان ہی ان ملزمان کو سزا دینے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ عدالت نے اب یہ کارروائی منگل کے روز تک کے لئے ملتوی کردی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی نے اس معاملے کا اس سال مارچ میں از خود نوٹس لیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بنچ نے کی جس میں جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس رانا بھگوان داس اور جسٹس سعید اشہد شامل ہیں۔ اس مقدمے میں مختاراں مائی اور حکومت کی چار علیحدہ اپیلوں کی سماعت کی گئی ہے جن میں لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست بھی شامل ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے مختار مائی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے پانچ میں سے چار ملزمان کو رہا کرنے کا حکم سنایا تھا۔ تاہم اٹارنی جنرل نے پیر کے روز سپریم کورٹ میں یہ بھی کہا کہ وفاقی شرعی عدالت کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرنا قانون کے مطابق درست نہ تھا اور صرف سپریم کورٹ ہی اس بات کی مجاز ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے کسی بھی فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ اس کیس کی سماعت قدرے دیر سے شروع ہوئی کیونکہ مختار مائی کی اپیل عدالت میں سنے جانے والے مقدمات میں میں نویں نمبر پر تھی۔ سپریم کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد اس مقدمے کی سماعت منگل کے روز تک کے لئے ملتوی کر دی ہے۔ تاہم پیر کی صبح ہی سے سپریم کورٹ کا کورٹ روم نمبر ایک غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں،غیر ملکی سفارتخانوں کے اہلکاروں، وکلا اور صحافیوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا جو اس بات کا مظہر تھا کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس کیس کی کتنی اہمیت ہے۔ یہ کیس اس وجہ سے اہمیت کا حامل ہے کہ پہلی دفعہ اجتماعی زیادتی کا شکار ایک پاکستانی خاتون نے ملک میں عورتوں کے خلاف ظلم کرنے والوں کے ساتھ عدالتی جنگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مختار مائی اس کیس کی سماعت کے دوران پہلی نشست پر اپنی سہیلی کے ہمراہ بیٹھی رہیں۔انھوں نے سماعت سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے اس کیس کی سماعت شروع ہونے پر وہ پر امید ہیں کہ ان کو انصاف ملے گا اور ان کے ساتھ زیادتی کرنے والے ملزمان کو سزا بھی۔ سپریم کروٹ کے آس پاس بڑی تعداد میں پولیس کو تعینات کیا گیا تھا اور کسی بھی صحافی کو کیمرہ،ٹیپ ریکارڈر اور ویڈیو کیمرہ اپنے ساتھ سپریم کورٹ میں لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ سن دو ہزار دو میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی کے کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چھ ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی۔ مگر لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے اس فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس سال تین مارچ کو چھ میں سے پانچ ملزمان کو بری کرنے کا حکم سنایا تھا۔ مختار مائی نے اس فیصلے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا تھا اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ گیارہ مارچ کو ملک وفاقی شرعی عدالت نےاس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا اور ملزمان کی سزائیں بحال کرتے ہوئے ان سات ملزمان کو بھی طلب کر لیا تھا جن کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بری کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو بھی معطل کر دیا تھا اور اس معاملے کی خود سماعت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس معاملے کے از خود نوٹس لینے کے باوجود ملک بھر میں مختار مائی کا کیس زیر بحث رہا اور اس ماہ کی دس تاریخ کو لاہور ہائی کورٹ کے نظر ثانی بنچ نے مختار مائی کے ملزمان کو تین ماہ کی نظر بندی کے بعد رہا کرنے کا حکم سنایا۔ اس فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی تھی۔ اسی دوران مختار مائی نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے ان کو حفاظت کے نام پر گھر میں نظر بند کر دیا ہے اور ان کو اپنے گھر کے دروازے سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔اس کے بعد حکومتی عہدیداروں نے یہ تسلیم کیا کہ مختار مائی کا نام ای سی ایل پر ڈال دیا گیا ہے اور ان کو امریکہ کی ایک انسانی حقوق کی تنظیم کے دعوت نامے کے باوجود ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ملی۔ اس حکومتی اقدام کی ملک میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین االاقوامی سطح پر امریکہ سمیت کئی ممالک نے مذمت کی تھی۔ وزیر اعظم شوکت عزیز کے حکم پر مختار مائی کا نام ای سی ایل سے تو نکال دیا گیا مگر خود مختار مائی کے مطابق ان کا پاسپورٹ حکومتی تحویل میں لے لیا گیا جو مختار مائی کو اتوارکے روز واپس کر دیاگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||