مختار مائی کیس: ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی سپریم کورٹ نے منگل کے روز لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ کا وہ فیصلہ معطل کر دیا جس میں مختار مائی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے پانچ ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم پر بری کیے گئے پانچ ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیئے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس رانا بھگوان داس اور جسٹس سعید اشہد پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پنجاب پولیس کے صوبائی سربراہ کو حکم دیا کہ وہ چار ملزموں کے خلاف جاری کیے گئے ناقابل ضمانت وارنٹس پر فوی عمل درآمد کرائیں۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے حکم کے مطابق مقدمے کے تمام ملزمان کے خلاف مقدمہ کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوگی اور مقدمے کے فیصلے تک گرفتار شدہ ملزمان عدالتی تحویل میں تصور ہوگی۔ سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر ایک میں جو، غیر ملکی سفارتکاروں، غیر سرکاری تنظیموں اور صحافیوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ عدالت میں موجود مختار مائی نے سپریم کورٹ کے اس حکم پر خوشی کا اظہار کیا۔ ان کے ساتھ موجود عدالت میں غیر سرکاری تنظمیوں کی نمائندہ خواتین نے انہیں مبارکبار دی۔ اخبارنویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں نے امید ظاہر کی انہیں آئندہ بھی عدالت سے انصاف ملے گا۔ پیر کے روز اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے مقدمے کی ابتدائی سماعت کے موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی زیادتی کے واقعات میں صرف زیادتی کا شکار ہونے والی کا بیان ہی ان ملزمان کو سزا دینے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ اس مقدمے میں مختار مائی اور حکومت کی چار علیحدہ اپیلوں کی سماعت کی جارہی ہے جن میں لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ سن دو ہزار دو میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی کے کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چھ ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی۔ مگر لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے اس فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس سال تین مارچ کو چھ میں سے پانچ ملزمان کو بری کرنے کا حکم سنایا تھا جبکہ چھٹے ملزم کی سزا کو کم کر کے عمرقید میں تبدیل کر دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||