مختار مائی توہین عدالت کی زد میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اجتماعی آبرو ریزی کا شکار ہونے والی مختار مائی کے معاملے میں ایک اور پیچ پڑا ہے اور آج لاہور ہائی کورٹ کا ملتان بینچ ان کے اور کچھ غیر سرکاری تنظیموں کے عہدے داروں کے خلاف توہین عدالت کی ایک درخواست کی سماعت شروع کر رہا ہے جو ایک مقامی وکیل نے دائر کی تھی۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ میر والہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے ملزامان کی بریت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر کے مختار مائی اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے عدالت کی توہین کی ہے۔ توہینِ عدالت کے اس مقدمے کی سماعت جسٹس نذیر احمد صدیقی اور جسٹس محمد نواز بھٹی پر مشتمل ڈویژن بینچ کر رہا ہے۔ میر والہ میں سن دو ہزار دو میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی کے کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چھ ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی۔ مگر لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے اس فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس سال تین مارچ کو چھ میں سے پانچ ملزمان کو بری کرنے کا حکم سنایا تھا۔ مختار مائی نے اس فیصلے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا تھا اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ گیارہ مارچ کو ملک کی وفاقی شرعی عدالت نےاس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا اور ملزمان کی سزائیں بحال کرتے ہوئے ان سات ملزمان کو بھی طلب کر لیا تھا جن کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بری کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو بھی معطل کر دیا تھا اور اس معاملے کی خود سماعت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||