’سخاروف پرائز‘: مختار مائی نامزد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختار مائی کو یورپین پارلیمان کی طرف سے ہر سال دیے جانے والے’سخاروف پرائز‘ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ مبینہ طور پراجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی مختاراں مائی ان دنوں خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔ پچاس ہزار یورو کی مالیت کا یہ ایوارڈ ہر سال کسی فرد یا تنظیم کو ناانصافی کے خلاف انسانی حقوق اور آزادی فکر کی جدوجہد کرنے کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ انیس سو اٹھاسی میں متعارف کرایا جانے والا یہ ایوارڈ ہر سال دس دسمبر کے قریب دیا جاتا ہے۔ دس دسمبر وہ دن ہے جب انیس سو اڑتالیس میں اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کا عالمی چارٹر مرتب کیا گیا تھا۔ سال دو ہزار پانچ کے سخاروف پرائز کے لیےا بتدائی طور پر جن دس افراد اور تنظیموں کو نامزد کیا گیا ان میں تین سال قبل جنوبی پنجاب کے گاؤں میر والہ میں مبینہ طور پر پنچایت کے حکم پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی بھی شامل ہیں۔
یورپی پارلیمان کی سب کمیٹی برائے امور خارجہ چھبیس ستمبر کے روز اس فہرست میں سے تین ناموں کا انتخاب کرے گی۔ یورپی پارلیمان کےصدور کی کانفرنس چھبیس اکتوبر کے روز ان تین ناموں میں سے سال دو ہزار پانچ کے سخاروف پرائز کے حتمی حقدار کا فیصلہ کرے گی۔ سخاروف پرائز کے لیے یا تو یورپین پارلیمان کے کسی ایک سیاسی گروپ کی طرف سے نامزدگی ضروری ہوتی ہے یا پھر پارلیمان کے پچیس ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ مختار مائی کو پارلیمان کے ایک سیاسی گروپ کی طرف سے نامزد کیا گیا ہے۔ اس سال سخاروف پرائز کے لیے نامزد افراد اور تنظیموں میں مختار مائی کے علاوہ پریس کی آزادی کے لیے کام کرنے والی فرانسیسی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) بھی شامل ہے۔
آندرے سخاروف روسی نیو کلیائی سائنسدان تھے جنہوں نے سابق سوویت یونین میں ایٹمی اسلحہ کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا لیکن بعد میں انسانیت اور ماحول پر اس کے برے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور ان کی آزمائش کے خلاف بھرپور کردار ادا کیا۔ سخاروف کو سنہ 1975 میں امن کا نوبل پرائز بھی دیا گیا۔ سخاروف کو اپنے خیالات کی بنا پر سوویت یونین میں قیدوبند کی صعوبتوں سے بھی گزرنا پڑا۔ سخاروف نے اڑسٹھ سال کی عمر میں سنہ 1989ء میں ماسکو میں وفات پائی۔ انہیں کے نام سے منسوب کیے جانے والے ’سخاروف پرائز‘ کو اب تک حاصل کرنے والوں میں نیلسن منڈیلا، آنگ سان سوکی، تسلیمہ نسرین اور کوفی عنان |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||