بلوچستان: ایف سی کے دو اہلکار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مکران ڈویژن کے شہر تربت کے قریب نا معلوم افراد نے نیم فوجی دستے کی گاڑی پر حملہ کیا ہے جس میں کم از کم دو افراد اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔ اس واقعہ میں ایف سی کی گاڑی کی ٹکر سے ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی بھی ہوا ہے۔ سینچر کی صبح فرنٹیئر کور کے اہلکار دو گاڑیوں میں آرہے تھے کہ مند اور تمپ کے درمیان پہلے سے گھات لگا کر بیٹھے ہوئے افراد نے ان پر حملہ کر دیا جس میں سات اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ تربت ہسپتال میں موجود ڈاکٹر سلیم نے بتایا ہے کہ زخمیوں میں تین کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں میں تین کا تعلق صوبہ سرحد کے شہر پشاور اور کوہاٹ سے بتایا گیا ہے۔ فرنٹیئر کور کے حکام نے بتایا ہے کہ اس بارے میں مزید تفتیش کی جارہی ہے۔ دریں اثناء ایک نا معلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام دودا بتایا ہے اور کہا ہے کہ وہ بلوچ لبریشن فرنٹ اور بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ دودا نے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد زیادہ ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس واقعہ کی چھان بین کے لیے جانے والی ایف سی کی گاڑی کی ایک موٹر سائیکل سے ٹکر ہو گئی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص ہلاک اور اس کا بیٹا زخمی ہوا ہے۔ یاد رہے گزشتہ ماہ خضدار میں نامعلوم افراد نے ایف سی کے اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی جس میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی طرح ڈیرہ بگٹی میں گزشتہ تین روز میں ایف سی کی چار گاڑیاں بارودی سرنگوں سے ٹکرائی ہیں جس میں کم سے کم تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ |
اسی بارے میں بلوچستان کے ویرانوں میں10 February, 2006 | پاکستان اچکزئی کےگھر پر چھاپہ، محافظ اغواء 08 February, 2006 | پاکستان بگٹی قلعے میں دھماکے؟07 February, 2006 | پاکستان اوچ پاور پلانٹ، ایک اور دھماکہ06 February, 2006 | پاکستان ’سرداروں کے خلاف کارروائی ہوگی‘06 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||