بلوچستان: پارٹی سربراہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ کے قریب بوستان کے علاقے میں حال ہی میں قائم ہونے والی حکومت کی حمایتی جماعت پاکستان ورکرز پارٹی کے چیئرمین نصراللہ کاکڑ کو نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ پاکستان ورکرز پارٹی کے کارکنوں نے روڈ بلاک کرکے زبردست نعرہ بازی کی۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے بتایا کہ بدھ کی صبح نصراللہ کاکڑ بوستان میں اپنے گھر سے نکلے ہی تھے کہ پہلے سے موجود ایک شخص نے ان پر فائرنگ کر دی جس پر نصراللہ کاکڑ کے محافظ نے فائرنگ کرکے حملہ آور کو زخمی کر دیا تھا جو بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ حملہ آور کا نام عبدالغنی بتایا گیا ہے اور عمر پینسٹھ برس تھی اور یہ اطلاعات بھی ہیں کہ یہ حملہ ذاتی ناچاقی کی وجہ سے ہوا ہے۔ بوستان کوئٹہ سے کوئی تیس کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ پاکستان ورکرز پارٹی کچھ عرصہ قبل قائم کی گئی تھی اور یہ جماعت حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے۔ رازق بگٹی نے مزید بتایا کہ ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ حملہ کیوں کیا گیا ہے لیکن اس حملے کے مقاصد سیاسی نظر آتے ہیں کیونکہ نصراللہ کاکڑ صوبے میں قوم پرست جماعتوں کی مخالفت کر رہے تھے اور حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کی حمایت میں کئی جلسے منعقد کر چکے تھے۔ | اسی بارے میں ’بلوچستان میں مفادات کی جنگ‘23 January, 2006 | پاکستان بلوچستان: تین چینی انجینئر ہلاک15 February, 2006 | پاکستان بلوچستان: ’مبینہ‘ آپریشن کے دو ماہ13 February, 2006 | پاکستان بلوچستان کے ویرانوں میں24 February, 2006 | پاکستان بلوچستان میں دو ٹرینوں پر حملہ27 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||