بلوچستان: ’مبینہ‘ آپریشن کے دو ماہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے علاقے کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی کارروائی شروع ہوئے دو مہینے پورے ہونے کو ہیں اس دوران سرکاری سطح پر اور قبائلیوں کی جانب سے متضاد دعوے کیے گئے ہیں۔ مری اور بگٹی قبائل کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دونوں علاقوں میں لگ بھگ ایک سو پچہتر افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں لیکن سرکاری سطح پر ان اعدادو شمار کی تصدیق نہیں ہوئی۔ چودہ دسمبر کو صدر جنرل پرویز مشرف کے کوہلو کے دورے کے دوران راکٹ داغے گئے اور پھر پندرہ دسمبر کو فرنٹئر کور کے میجر جنرل اور بریگیڈئر کے ہیلی کاپٹر پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی جس میں دونوں افسران کے زخمی ہونے کی اطلاع آئی تھی۔ ان واقعات کے بعد سترہ دسمبر کو کوہلو سے مری قبیلے کے لوگوں نے بتایا کہ حکومت نے فوجی کارروائی شروع کر دی ہے جس کے بعد متواتر یہ اطلاعات موصول ہوتی رہیں کہ گن شپ ہیلی کاپٹر اور طیاروں کے ذریعے خطر ناک ہتھیاروں سے بمباری کی جا رہی ہے۔ صدر جنرل پریز مشرف نے اس بارے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے کہا کہ یہ کوئی فوجی آپریشن نہیں ہے بلکہ ایف سی کے اہلکار ان کیمپوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جہاں مسلح افراد موجود ہیں اور وہ راکٹ باری اور بم دھماکوں کے واقعات میں ملوث ہیں۔ رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری نے نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز کاہان اور دیگر علاقوں میں شدید حملے کر رہے ہیں۔ اس کے بعد تیس دسمبر سے اچانک ڈیرہ بگٹی کا جھڑپیں شروع ہو گئیں اور دونوں جانب سے متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بگٹی قبائل کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے بلا اشتعال حملے شروع کر دیے جس میں بے گناہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سرکاری سطح پر ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے کہا کہ فرنٹیئر کور کے اہلکار قومی تنصیبات کی حفاطت کر رہے ہیں اور اگر مسلح افراد کی جانب سے کوئی حملہ ہوتا ہے تو ایف سی کے اہلکار جوابی کارروائی ضرور کرتے ہیں۔
ان کارروائیوں کے دوران یہاں کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور بلوچستان میں فوجی کارروائی بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ صوے کے مختلف علاقوں میں بم دھماکے راکٹ باری ریل پٹڑیوں گیس اور پانی کی پائپ لائنز کو نقصان پہنچانے کے علاوہ بارودی سرنگوں کے پھٹنے کے واقعات پیش آئے جس میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ سب سے بڑ ا واقعہ مسافر بس میں دھماکہ تھا جس میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے لیکن یہ وضاحت نہیں کی گئی کے یہ کارروائی کس نے کی ہے۔ بالاچ مری نے دعوی کیا ہے کہ کوہلو میں سو کے لگ بھگ لوگ ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں اسی طرح جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی میں پچہتر افراد ہلاک اور دو سو بیالیس زخمی ہوئے ہیں دونوں رہنماؤں نے دعوی کیا کہ اس میں زیادہ تر خواتین اور بچوں شامل ہیں۔ ڈی سی او ڈیرہ بگٹی عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں کی ہلاکت کی خبر غلط ہے ہاں اگر مسلح افراد ہلاک ہوئے تو انھیں اس کا علم نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ سب سے بڑی کامیابی یہ ہوئی ہے کہ ایک ریاست کے اندر جو دوسری ریاست قائم تھی اسے ختم کر دیا گیا ہے اب لوگ آزاد ہیں وہ پولیس تھانے رپورٹ کر سکتے ہیں اور اپنا کاروبار زندگی بہتر طریقے سے چلا رہے ہیں۔ سوئی سے نقل مکانی کرنے والے بیشتر لوگ اب بھی بلوچستان اور سندھ کے مختلف چلاقوں میں بے سروسامانی کی حالت میں پڑے ہیں ان لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور قبائلیوں کی جنگ میں ان کا نقصان زیادہ ہوا ہے ان کی نوکریاں اور کاروبار گیا گھر نہیں رہا اور روٹی پانی کے محتاج ہیں۔ | اسی بارے میں ’سرداروں کے خلاف کارروائی ہوگی‘06 February, 2006 | پاکستان بگٹی قلعے میں دھماکے؟07 February, 2006 | پاکستان بلوچستان کے ویرانوں میں10 February, 2006 | پاکستان بلوچستان: ایف سی کے دو اہلکار ہلاک11 February, 2006 | پاکستان بلوچستان:’بارودی سرنگوں کےدھماکے‘11 February, 2006 | پاکستان بلوچستان:گیس فیلڈ پرحملہ،گیس بند12 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||