BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 February, 2006, 18:00 GMT 23:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان کے ویرانوں میں

بلوچستان
مری قبیلے کےافراد جدید اسلحہ سے لیس ہیں۔
بلوچستان کے علاقہ ڈیرہ بگٹی کے سفر کے دوران جب ہم راستہ بھول گئے اور اندھیرا چھا چکا تھا تو ڈرائیور پریشان ہو کر کہنے لگا کہ ’میری کیوں مت ماری گئی کہ آپ کے ساتھ آیا‘۔
میں نے ڈرائیور کو دلاسہ دیا اور کہا کہ بھائی اب تو آگئے ہیں گھبرائیے نہیں اللہ بہتر کرے گا۔ آگے گئے تو ریتلا راستہ ختم ہوا اور پھر پتھریلا راستہ شروع ہوا۔ ڈرائیور نے کہا کہ یہاں سے گاڑی نہیں جاسکتی۔

ہم اندھیرے میں پریشان کھڑے بگٹی کے لوگوں سے رابطہ کرنے کی کوشش میں تھے کہ اچانک ایک شخص نمودار ہوا اور اپنا نام لونگ بگٹی بتایا اور کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ ہم نواب اکبر بگٹی کے مہمان ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اچھا ہوا آپ یہاں آئے اگر دوسری طرف جاتے تو ایف سی کی چیک پوسٹ ہے اور وہ ہمیں پکڑ لیتے۔ لونگ نے بتایا کہ ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت کے بعد بگٹی قلعہ میں پہنچ جائیں گے۔

انتہائی دشوار گزار اور خستہ حال ایک سو کلومیٹر کا فاصلہ آٹھ گھنٹے میں طے کر کے اس جگہ پہنچے تھے۔ لیکن لونگ کے مشورے کے برعکس ہم نے راستہ بدل لیا اور فیصلہ کیا کہ ایف سی کی چیک پوسٹ سے گزریں گے۔ پونے گھنٹے کی مسافت کے بعد جب ہم سنگسیلا چیک پوسٹ پر پہنچے تو ایف سی کا چھوٹا قلعہ نظر آیا۔

گاڑی کی لائٹ دیکھ کر ایف سی کے اہلکار چوکس ہوگئے اور سڑک پر رکاوٹ کی وجہ سے گاڑی رکی تو تین اہلکاروں نے بندوقیں تان کر گھیر لیا۔ تعارف کرانے پر ان کے رویے میں یکسر تبدیلی آ گئی۔

ایک سپاہی نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں سے اس طرف سے کوئی گاڑی نہیں گزری۔ انہوں نے بی بی سی کی تعریفیں شروع کردیں اور کہا کہ اس جنگل میں ان کی معلومات کا واحد ذریعہ ریڈیو ہے۔

اس دوران انہوں نے کرسیاں لائیں اور بتایا کہ میجر صاحب گشت پر ہیں انہیں اطلاع کردی ہے۔ دس منٹ بعد میجر آئے اور وہ اندر قلعے میں لے گئے۔ یہاں بجلی نہیں تھی اور لالٹین جل رہی تھیں۔ میجر نوید کا تعلق راولپنڈی سے تھا جبکہ کیپٹن ڈاکٹر بھکر کے تھے۔ انہوں نے چائے پلائی اور کرنل فرقان کو مطلع کیا اور انہوں نے ڈیرہ بگٹی شہر جانے کی اجازت دے دی۔

ہم نواب بگٹی کے آدمیوں سے رابطے میں تھے اور انہوں نے کہہ رکھا تھا کہ اگر ایف سی والے سنگسیلا سے نہ چھوڑیں تو وہ انتظام کریں گے۔ لیکن اس کی نوبت نہیں آئی۔

سنگسیلا سے ڈیرہ بگٹی شہر تک درمیان

ہمارے لیے سگریٹ لانا
 ایف سی کے میجر نوید نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی سے واپسی پر ان کے لیے سگریٹ اور دیگر سامان ساتھ لائیے گا۔ ۔
اایف سی میجر کی فرمائش
میں آٹھ دس کلومیٹر کا علاقہ بگٹیوں کے قبضے میں ہے اور سنگسیلا چیک پوسٹ پر تعینات اہلکاروں کو راشن وغیرہ لانے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔ ہم کو اگلے دن اکبر بگٹی سے ملنے اسی علاقے میں آنے تھا اور میجر نوید نے کہا کہ اگر آپ آئیں تو مہربانی کر کے ہمارے لیے سگریٹ اور دیگر سامان آپ کو ڈیرہ بگٹی میں واقع ایف سی کے ہیڈ کوارٹر سے دیں گے وہ ساتھ لائیے گا۔ ہم نے اس وقت حامی بھرلی۔

ڈیرہ بگٹی شہر سے پہلے ایف سی کے چیک پوسٹ پر جامہ تلاشی ہوئی اور پورے سامان میں ہر ایک چیز انہوں نے غور سے دیکھی اور جانے دیا۔ شہر میں پہنچے تو ایف سی چیک پوسٹ والوں نے روکا اور کہا کہ پہلے ان کے قلعہ یعنی ہیڈ کوارٹر جانا پڑے گا۔

ایف سی کے کرنل فرقان اور ان کے جونیئر افسر منتظر تھے۔ کرنل صاحب خاصے جارحانہ موڈ میں تھے اور کہنے لگے

کرنل فرقان کا غصہ
 اکبر بگٹی صحافیوں کو خرید لیتے ہیں اور فلاں صحافی کو حال ہی میں ڈیڑھ لاکھ دیے ہیں۔
ایف سی کرنل کا الزام
اکبر بگٹی صحافیوں کو خرید لیتے ہیں اور فلاں صحافی کو حال ہی میں ڈیڑھ لاکھ دیے ہیں۔

میں نے کرنل سے کہا کہ میں بھی خاصے دنوں سے سفر میں ہوں اور اگر آپ بگٹی سے ملاقات کرنے کی اجازت دیں تو جو رقم ملے گی آپ کے ساتھ بانٹ لوں گا۔ اس پر جونیئر افسر مسکراتے ہوئے کمرے سے نکلے اور کرنل صاحب نے ایک لمحے کے لیے کچھ محسوس کیا۔

ہم نے کرنل سے اجازت لی اور وہ گاڑی تک چھوڑنے آئے اور سنگسیلا چیک پوسٹ والوں کے لیے سگریٹ اور نسوار سمیت کچھ اشیاء ایک چھوٹی بوری میں ڈال کر ہماری گاڑی میں رکھ دیں۔

اس دوران اکبر بگٹی نے فون کر کے ہمارے کوئٹہ کے ساتھی عزیز اللہ سے کہا کہ آپ کا نمائندہ دو تین گھنٹے سے ایف سی ہیڈ کوارٹر میں ہے اور پتہ کریں کہیں انہیں حراست میں تو نہیں لے لیا۔

ہم جیسے ہی بگٹی قلعہ کی طرف روانہ ہوئے تو ایک ٹرالی سڑک پر کھڑی تھی اور اس کے پیچھے مسلح لوگ موجود تھے جنہوں نے بندوقوں کا رخ ہماری طرف کر رکھا تھا۔ میں ہاتھ اوپر کر گاڑی سے باہر نکلا اور اپنا تعارف کروانے پر انہوں نے کہا:’ خیر ہے خیر ہے جاؤ‘۔

میں نے رات بگٹی قلعہ میں گزاری۔ رات تین بجے ایک بڑا دھماکہ ہوا اور آنکھ کھل گئی۔ اٹھ کر بیٹھ گیا۔خیال آیا کہ کہیں ایف سی والوں نے سگریٹ اور نسوار کی بوری میں قابل اعتراض اشیاء تو نہیں رکھیں اور صبح کہیں چیک پوسٹ پر خود ہی پکڑ لیں۔ اتنے میں دھماکوں کی آوازوں میں اضافہ ہوگیا اور یکے بعد دیگرے دھماکے ہوتے رہے۔

دھماکوں کے شور اور ایف سی کی بوری نے پریشان کردیا اور نیند اڑ گئی۔( جاری ہے)

ڈیرہ بگٹیبگٹی قلعے میں
ایف سی چیک پوسٹ، نسوار اور بگٹی قلعہ
یوسف مریمفادات کی جنگ
بلوچستان: حقوق کی نہیں، مفادات کی جنگ
اکبر بگٹیبلوچستان صورتحال
کانگریس مین کا اظہار تشویش
اسی بارے میں
بلوچستان کے ویرانوں میں
13 February, 2006 | پاکستان
بلوچستان کے ویرانوں میں
10 February, 2006 | پاکستان
نڑ ساز کی جگہ تھرایا فون
24 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد