BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 February, 2006, 00:15 GMT 05:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اکبر بگٹی نےہڈی میں کیا دیکھا؟

اعجاز مہر اکبر بگٹی کا انٹرویو کر رہے ہیں
اکبر بگٹی کا انٹرویو کرتے ہوئے بی بی سی کے اعجاز مہر
(سفرنامے کی تیسری قسط)

اکبر خان بگٹی کے قلعہ میں پہلی رات قیام کے دوران درمیانی شب ہونے والے ایک بڑے دھماکے سے آنکھ کھل گئی تھی اور فرنٹیئر کور یعنی ’ایف سی‘ کی جانب سے سنگسیلا چیک پوسٹ پر تعینات اہلکاروں کے لیئے سگریٹ اور نسوار سمیت جو چیزیں ایک چھوٹی بوری میں دی تھیں اس کی وجہ سے کافی پریشانی تھی۔

یہ بوری بگٹی قلعہ میں اس ڈر کی وجہ سے کھول کر نہیں دیکھنا چاہتا تھا کہ کہیں بگٹی ناراض نہ ہوجائیں۔ صبح اٹھے تو گدلا پانی نہانے کے لیے دیا گیا اور ہم وہ پانی استعمال کیے بنا اکبر بگٹی کے قلعہ کے معائنے کے لیئے گئے۔ بگٹی کے ایک انتہائی بااعتماد ملازم نبی بخش نے ایف سی کی جانب سے فائر کیے جانے والے میزائیلوں سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں بتایا۔

 ڈیرہ بگٹی میں نبی بخش کا زور مسجد پر لگنے والے راکٹ سے ہونے والے نقصان پر تھا کہ دیکھیں جی مسجد کو بھی نہیں چھوڑا۔ ایسا ہی زور ایف سی والوں کا بھی تھا اور ان کے قلعہ میں قائم مسجد کو بھی بگٹیوں کے راکٹوں سے نقصان پہنچا تھا۔

اس دوران قلعہ کے ساتھ ایک خندق کھدی ہوئی تھی اور وہاں موجود محافظوں کے پاس جدید اسلحہ کے ساتھ ساتھ وائرلیس سیٹ بھی تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ایف ایم ریڈیو‘ کے ساتھ ایک آلہ نصب کرکے وہ ایف سی کے اہلکاروں کی وائر لیس پر ہونے والی بات چیت سنتے ہیں اور ایف سی والے بگٹی قبائل کی باتیں سنتے ہیں۔

ڈیرہ بگٹی میں نبی بخش کا زور مسجد پر لگنے والے راکٹ سے ہونے والے نقصان پر تھا کہ دیکھیں جی مسجد کو بھی نہیں چھوڑا۔ ایسا ہی زور ایف سی والوں کا بھی تھا اور ان کے قلعہ میں قائم مسجد کو بھی بگٹیوں کے راکٹوں سے نقصان پہنچا تھا۔

مسجد سے ہوکر مہمان خانے میں آئے تو کھدے ہوئے مورچوں سے لوگ نکل آئے اور حکومت کے مبینہ مظالم کی تفصیل بتانے لگے۔ اس دوران دو راکٹ کچھ فاصلے پر گرے تو بگٹی کے حامیوں نے کہا کہ ’مورچے میں آئیں کہیں آپ کو نہ راکٹ لگے‘۔ وہاں بگٹی کے ملازم کا زور یہ ثابت کرنے پر تھا کہ کلپر اور مسوری قبائل کے زیادہ تر لوگ ان کے ساتھ ہیں۔

وہاں سے نکل کر ہندو محلہ گئے جہاں مندر اور گھر ویران تھے اور زندگی کا کوئی آثار نہیں تھا۔ بیشتر گھروں پر راکٹ لگنے کی وجہ سے ملبہ پھیلا ہوا تھا۔ نبی بحش نے بتایا کہ تمام ہندو برادری کے لوگ یہاں سے بلوچستان اور صوبہ سندھ کے علاقوں میں چلے گئے ہیں۔ بگٹی کے قلعہ کے سامنے ہندؤں کی آبادی دیکھ کر محسوس ہوا کہ اقلیت کے لوگوں کو اکبر بگٹی نے اپنی حفاظت کے لیے شاید ایک ڈھال کے طور پر جان بوجھ کر اس جگہ آباد کیا تھا۔ ہندو محلہ کی طرح ڈیرہ بگٹی کا بازار بھی ویران تھا اور کئی دکانوں پر بھی گولیاں اور راکٹ لگنے کے نشانات واضح طور پر نظر آرہے تھے۔

ہم سیدھے ایف سی کے قلعے میں گئے اور گیٹ پر سپاہیوں کو بلا کر رات بھر نیند اڑانے والی بوری ان کے حوالے کی اور کہا کہ ہم دوسری طرف جارہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ان کا کوئی افسر آتا ہم چل دیئے اور سکھ کا سانس لیا کہ بوری سے جان چھوٹی۔

جیسا کہ آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ ڈیرہ بگٹی سے سنگسیلا والی بیس کلومیٹر کے قریب طویل سڑک کے درمیان والے زیادہ تر حصے پر بگٹی قبائل کا قبضہ ہے اور عین اسی علاقے میں ان کے لوگ ملے۔ میں نے اپنی گاڑی وہاں چھوڑی اور بگٹی کے لوگوں کے ساتھ نئی ڈبل کیبن میں گیا جس کے اوپر مٹی لگا کر کیموفلاج کیا گیا تھا۔ دشوار گزار راستوں سے ہوکر تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ایک نامعلوم جگہ پر اکبر خان بگٹی سے ملاقات ہوئی۔

فرشی نشست لگی ہوئی تھی۔ اکبر بگٹی کے پوتے اور نواسے کلاشنکوف اور تھورایا سیٹلائیٹ فون ہاتھ میں لیئے ملے جبکہ ساٹھ کے قریب جدید اسلحہ سے لیس محافظ بھی موجود تھے۔ بگٹی نے سندھی زبان میں بات چیت کا آغاز کیا اور خیرو عافیت کے بعد اردو میں ان سے بات چیت شروع ہوئی۔ آدھے گھنٹے کے انٹرویو کے بعد دوپہر کا کھانا کھایا۔ بکرے کی سجی اور کاکھ نامی گرم روٹی (پتھر کو آٹے سے بند کیا جاتا ہے اور ڈبل روٹی کی طرح اوپر سے سخت اور اندر سے نرم ہوتی ہے) جب سامنے آئی تو میں نے بگٹی سے کہا کہ کرنل ٹھیک کہہ رہا تھا کہ آپ مہمانوں کو سجی کھلاتے ہیں۔

 اس ہڈی سے قسمت اور حالات کے بارے میں پیش گوئی کرنے کی روایت اس قبیلے میں گزشتہ کئی صدیوں سے رائج ہے اور تمام بگٹیوں کو اس پر ایمان کی حد تک عقیدہ ہے۔ یہ ہڈی بگٹی قبیلے کے اپنے پالتو بکرے کے شانے کی ہوتی ہے اور مخصوص بزرگ لوگ اس کا معائنہ کرکے پیش گوئی کرتے ہیں۔

اس دوران بگٹی اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے قبیلے کے لوگوں کے ساتھ اس طرح گھل مل کر باتیں کر رہے تھے کہ ایک سردار اور ان کے قبیلے کے عام آدمیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اس بارے میں عبدالصمد لاسی نے بعد میں بتایا کہ عام دنوں میں وہ ایسا نہیں کرتے البتہ مشکل وقت میں اپنے حامیوں کو ساتھ رکھنے کی خاطر وہ ایسا کرتے ہیں۔ عام لوگوں سے تو وہ بات کر رہے تھے لیکن اپنے پوتے جوکہ ان کے بڑے اور مرحوم بیٹے سلیم اکبر بگٹی سے ہیں، میر عالے عرف میر عدو سے انہیں بات چیت کرتے نہیں دیکھا۔

نواب بگٹی اپنے ایک اور پوتے برہمداغ کو زیادہ اہمیت دے رہے تھے اور غیر اعلانیہ طور پر وہ انہیں ہی اپنا جان نشین بنانا چاہتے ہیں۔ بگٹی سے جب میں نے جان نشین نامزد کرنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ فیصلا قبیلہ کرے گا۔ لیکن بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ اس سوال پر ان کے پوتوں میں لڑائی ہوسکتی ہے اور قبیلہ تقسیم ہوسکتا ہے۔

ایک سو کلومیٹر سے زیادہ طویل پہاڑی سلسلے میں سینکڑوں مورچہ زن مسلح بگٹی کے حامیوں کو کھانے پینے، گولہ بارود، تھورایا فون اور دیگر سہولیات کے متعلق محتاط اندازے کے مطابق ان کا روزانہ ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے کے قریب اخراجات آتے ہوں گے۔ میں ابھی ان کے متعلق سوچ ہی رہا تھا کہ آخر یہ کب تک حالت جنگ میں رہیں گے تو اچانک نواب بگٹی نے ایک ہڈی نکالی۔

بگٹی نے ہڈی کا غور سے مطالعہ کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہوں گے

اس ہڈی کا غور سے مطالعہ کرنے کے بعد انہوں نے بلوچی زبان میں اپنے ساتھیوں اور عزیزوں سے کہا کہ آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہوں گے اور اس ہڈی میں انہیں فوج ہی فوج نظر آرہی ہے۔ اس ہڈی سے قسمت اور حالات کے بارے میں پیش گوئی کرنے کی روایت اس قبیلے میں گزشتہ کئی صدیوں سے رائج ہے اور تمام بگٹیوں کو اس پر ایمان کی حد تک یقین ہے۔ یہ ہڈی بگٹی قبیلے کے اپنے پالتو بکرے کے شانے کی ہوتی ہے اور مخصوص بزرگ لوگ اس کا معائنہ کرکے پیش گوئی کرتے ہیں۔ اکبر خان نے اپنے لوگوں کو مستقبل میں مزید مشکلات سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کے لیئے خبردار کیا اور ہم نے ان سے اجازت لی۔

نواب بگٹی کا انٹرویو کر کے واپس ڈیرہ بگٹی میں واقع ایف سی کے قلعہ جانے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ ایک رات بگٹی کے قلعہ میں گزارنے کے بعد حساب برابر کرنے کے لیے ایک رات ایف سی کا مہمان بننے کا فیصلہ کیا۔ تاکہ کوئی بھی فریق یہ نہ کہے کہ یکطرفہ معاملہ ہے۔

شام گئے جیسے ہی ایف سی قلعہ پہنچے اور ابھی سامان رکھنے کے بعد چائے پی رہے تھے کہ اچانک بمباری شروع ہوگئی۔

سورج غروب ہونے کے ساتھ شروع ہونے والی یہ بمباری ایک گھنٹے سے بھی زیادہ جاری رہی اور ایف سی کے کرنل فرقان کے مطابق بگٹیوں نے تین سو سے زیادہ راکٹ اور میزائیل پھینکے۔ اس دوران ایف سی قلعہ میں ایک خوف کا سماں تھا اور کئی اہلکار ادھر سے ادھر پریشانی کے عالم میں بھاگتے نظر آئے۔ میں دھماکوں کی آوازیں ریکارڈ کرنے برآمدے میں آیا تو سپاہیوں نے کہا اندر جائیں اور خوف کے عالم میں ہم دبک کر بیٹھ گئے۔

-----------------------------------------------------------------------------------------------
٭ یہ سلسلہ جاری ہے، اگلی قسط آئندہ چھاپی جائے گی۔ ڈیرہ بگٹی کے اعجاز مہر کے سفر کے بارے میں پہلی دو اقساط پڑھنے کے لیے آپ مندرجہ زیل لنک پر کلک کر سکتے ہیں:


ڈیرہ بگٹیبگٹی قلعے میں
ایف سی چیک پوسٹ، نسوار اور بگٹی قلعہ
’سگریٹ لیتے آنا‘
ڈیڑہ بگٹی کے دورہ کے دوران میں نے کیا دیکھا
مسلح بلوچکیا سچ، کیا جھوٹ؟
حکومت ،مخالفین کے دعووں کی تصدیق ناممکن
اسی بارے میں
ڈیرہ بگٹی میں جھڑپیں جاری
01 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد