بلوچستان میں مظاہرے اور گرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متنازعہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف جمعرات کو بلوچستان کے مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی ہے اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں جبکہ پولیس نے کوئٹہ میں کوئی چھبیس افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ان مظاہروں کے لیے اپیل دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے کی تھی۔ اس موقعہ پر مقررین نے اس موقع پر متنازعہ خاکوں کے اشاعت کی مذمت کے ساتھ ساتھ امریکی صدر جارج بش کے دورہ پاکستان اور استقبال پر شدید تنقید کی ہے۔ اسی طرح کے مظاہرے کوئٹہ کے علاوہ افغانستان کی سرحد پر واقع شہر چمن، ساحلی علاقے جیسے گوادر پنجگور اور ادھر ژوب لورالائی وغیرہ میں منعقد کیے گئے ہیں۔ گوادر اور چمن کے مظاہروں میں چار سے پانچ ہزار افراد نے شرکت کی ہے جبکہ یہاں کوئٹہ میں ڈیڑھ سے دو ہزار افراد میزان چوک پر اکٹھے ہوئے اور سخت نعرہ بازی ککی ہے۔ گوادر کے مظاہرے میں مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ قوم پرست جماعتوں نے بھی شرکت کی ہے۔ آج صوبے کے بیشتر علاقوں میں دکانیں مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند رہے ہیں۔ کوئٹہ میں سنیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر مجیب الرحمان نے کہا ہے کہ چھبیس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ لوگ پتھراؤ اور بعض مقامات پر زبردستی دکانیں بند کرانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ | اسی بارے میں بش کی آمد پر سکیورٹی سخت03 March, 2006 | پاکستان بش کےاعزاز میں عشائیے کا بائیکاٹ03 March, 2006 | پاکستان کراچی حملہ: ایف بی آئی کی تحقیقات03 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||