کراچی حملہ: ایف بی آئی کی تحقیقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا کہنا ہے کہ جمعرات کو کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے نزدیک ہونے والے بم دھماکے میں ملوث خودکش حملہ آور کی تصویر حاصل کر لی گئی ہے اور اس کے بارے میں خیال یہی ہے کہ وہ پاکستانی تھا۔ادھر امریکی ادارے ایف بی آئی کی ایک ٹیم نے کراچی بم دھماکے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ کراچی میں امریکی سفارتخانے کے نزدیک ہونے والے حملے میں ایک امریکی سفارتکار سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ملزمان کی گرفتاری اور نشاندی پر حکومت نے پچاس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ ایف بی آئی کی تحقیقاتی ٹیم نے جمعرات کی شب جائے وقوع کا معائنہ کیا۔ دوسری جانب آرٹلری تھانے پر نامعلوم ملزمان کے خلاف دہشتگردی اور دھماکہ خیز مواد ایکٹ کے تحت حملے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ سندھ کے وزیر داخلہ نے اعلان کیا ہے دھماکے میں ملوث ملزمان کی نشاندہی کرنے والے اور ٹھوس ثبوت پیش کرنے والے شہری کو پچاس لاکھ روپے انعام دیا جائیگا اور اس کا نام بھی راز میں رکھا جائیگا۔ دریں اثناء سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے امریکی قونصل جنرل مس میری کی رہائشگاہ پر جاکر انہیں مکمل حمایت اور تمام ممکنہ حفاظتی اقدام اٹھانے کی یقین دہانی کروائی۔ کراچی کا یہ علاقہ ہمیشہ پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی ایک بھاری تعداد کے حصار میں رہتا ہے۔ اس کے باوجود اس علاقے میں خودکش بم حملے سے یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ خودکش حملہ آور کس طرح اس علاقے میں اپنی گاڑی پہلے کھڑی کر کے گیا اور اس کے بعد تقریبا آدھے گھنٹے بعد واپس آ کر اس نے اپنی گاڑی کو امریکی سفارتکار کی گاڑی سے ٹکرایا۔ سیکیورٹی کی اس ناکامی کے پیچھے ایک دفعہ پھر پاکستانی حکومت خصوصاً صدر جنرل پرویز مشرف کے اس دعوے کی نفی ہوئی ہے جس میں انہوں نے گذشتہ چند ماہ میں بار بار اس بات کو دہرایا تھا کہ حکومت نے دہشتگردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے۔تاہم کراچی کے اس انتہائی سیکیورٹی والے علاقے میں خودکش حملہ کر کے اس بات کو ثابت کر دیا گیا ہے کہ دہشت گرد کہیں اور کبھی بھی حملہ کر سکتے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ابھی تک اس حملے میں اس سے زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے سوائے اس کے کہ انہیں کلوز سرکٹ ٹی وی سے حملہ آور کے حلیے کا پتہ چلا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ابھی اس بارے میں اس سے زیادہ کچھ کہنے کو نہیں ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر یہ تیسرا حملہ کیا گیا ہے۔ دو حملوں میں جانی نقصان ہو ا جبکہ ایک حملے میں جانی نقصان نہیں ہوا۔ چودہ جون سن دو ہزار دو میں امریکی سیکرٹری دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کے دورہ پاکستان کے ایک روز بعد امریکی قونصلیٹ کے باہر ایک کار میں بم دھماکہ ہوا تھا جس میں گیارہ افراد ہلاک اور تیس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ اس حملے میں زخمی ہونے والوں میں قونصلیٹ کے پانچ پاکستانی ملازم اور ایک میرین گارڈ بھی شامل تھا۔اس بم دھماکے کے بعد امریکہ نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں اپنے قونصلیٹ بند کردیئے تھے۔ مارچ سن دو ہزار چار میں قونصلیٹ کے باہر ایک گاڑی میں نصب بم کو ناکارہ بنایا گیا تھا۔ وین کی ایک ٹینکی میں کیمیکل سے بھرا ہوا مواد رکھا گیا تھا جس میں طاقتور ڈیٹونیٹر لگائے گئے تھے۔ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جارج بش کے دورہ پاکستان سے ایک روز قبل ہونے والے اس حملے میں امریکہ اور پاکستانی حکومت کو پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ابھی ایک طویل عرصے تک جاری رہے گی۔ توقع ہے کہ امریکی صدر جارج بش اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان ہونےوالی بات چیت کا محور بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مزید موثر بنانے کے لیئے ٹھوس اقدامات کرنے پر رہے گا۔ | اسی بارے میں ’ کراچی بم دھماکہ سازش ہے‘02 March, 2006 | پاکستان یہ دہشت گردی ہے: صدر بش02 March, 2006 | پاکستان دو امریکی اہلکاروں سمیت چار ہلاک02 March, 2006 | پاکستان بم دھماکہ خودکش حملہ تھا:پولیس02 March, 2006 | پاکستان امریکی قونصلیٹ پر تیسرا حملہ02 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||