’مشرف بش کا غصہ ہم پر نکال رہا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار عطااللہ مینگل نے کہا ہے کہ حکمران اب انتہائی درجے کی فرسٹریشن پر پہنچ گئے ہیں، ان کی حالت مست گھوڑے جیسی ہوگئی ہے۔ جس کے سامنے جو آتا ہے اس کی خیر نہیں ہے۔ اپنے سمدھی نواب خیر بخش مری کی مبینہ حراست اور رہائی کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سردار مینگل نے کہا کہ ’مشرف کو چونٹی تو بش نے بھری ہے اور غصہ ہم پر نکال رہا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مری قبیلے کے سردار نواب خیر بخش مری کو منگل کے روز ڈفینس کے علاقے میں ان کے فرزند اور داماد جاوید مینگل کو گھر سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے قبیلے کے عمائدین سے بلوچستان کی صورتحال پر ملاقات کر رہے تھے۔ انہیں پھر نصف گھنٹے کے بعد چھوڑا گیا۔ جب سردار منگل سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس کارروائی کو دھمکی سمجھتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’وہ لوگوں کو مار رہے ہیں اس سے زیادہ اور کیا دھمکی ہوسکتی ہے؟ مری، بگٹی اور مکران گوادار کے علاقے میں قتل عام کیا جارہا ہے، جو گرفتار کئے جاتے ہیں ان کی لاشیں بھی نہیں ملتیں ۔‘ انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان کا مسئلہ سادہ سا ہے، حکمران کہتے ہیں کہ بلوچستان ہمارے حوالے کریں ہمارا کہنا ہے کہ یہ وسائل مقامی لوگوں کے ہیں ان کے حوالے ہونے چاہئیں۔ یہ مارا ماری اس لئے ہو رہی ہے۔ ورنہ ہم نے کسی کے باپ کو تو نہیں مارا ہے۔‘ بلوچستان میں افغانستان کے ذریعے بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کی مداخلت کے الزام کے حوالے سے سردار مینگل کا کہنا تھا کہ ’مشرف کو اب پتہ چلا ہے کہ کرزئی ’را‘ کے ایجنٹوں کی حمایت رہا ہے؟ حقیقیت یہ ہے کہ مشرف اور کرزئی دونوں حریف ہیں۔‘ بلوچ رہنما کے مطابق مشرف اور کرزئی دونوں کے ان داتا بش ہیں، جس وجہ سے دونوں میں حسد ہے، دونوں زیادہ توجہ کے طلبگار ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس سے بلوچستان کی صورتحال کا کیا تعلق ہے تو ان کا کہنا تھا جو کمزور ہوگا اس کو تو دھکا لگے گا۔ ہم کمزور ہیں جو چاہے ہم پرغصہ نکال لے۔ سردار عطااللہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ حکام کہتے ہیں کہ یہ اسلحہ بھارت فراہم کر رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پاکستانی فوج کو جو ہتھیار دیے تھے وہ اس نے بیچ دیے ۔اب یہ لوگوں کے ہاتھ لگے ہیں۔ ہر قوم نے یہ اسلحہ خریدا ہے ۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا تو انہوں نے بتایا کہ یہ سلسلہ تو ابھی پوری طرح شروع ہی نہیں ہوا ہے، ختم تو اپنی جگہ پر۔ انجام کے بارے میں ان کا کہنا تھا اس کے اختتام پر یا تو بلوچ بالکل خاموش ہوجائے گا، کبھی حق کی بات نہیں کریگا یا اس کے بعد پاکستان میں کوئی بھی کسی کے حق پر بری نگاہ نہیں رکھے گا۔ حکمرانوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ ان لوگوں کو عقل آئے گی اور یہ لوگوں کے حقوق ان کے حوالے کرینگے ۔اس لئے ہم اپنے لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ان حکمرانوں سے کسی اچھائی کی امید نہ رکھیں۔ |
اسی بارے میں لوٹی گیس پلانٹ پر حملہ 09 March, 2006 | پاکستان خیر بخش مری کے گھر پر چھاپہ14 March, 2006 | پاکستان کوئٹہ، کالج کے قریب بم دھماکہ15 March, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||