مینگل پر مقدمہ، ملازمین گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں بلوچ قوم پرست رہنما اور بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے خلاف خفیہ ادارے کے ارکان کے اغوا اور ان پر تشدد کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے تین ملازمین کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔ اس سے قبل رینجرز نے کئی گھنٹوں تک کراچی کے علاقے ڈیفنس میں خیابانِ شمشیر پر واقع بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل کی رہائشگاہ کا مکمل محاصرہ کیے رکھا۔ اس دوران ان کے گھر کی اطراف کی سڑکوں اورگلیوں کو منی بسیں اور ٹرک کھڑے کر کے بلاک کر دیا گیا اورگلیوں کے داخلی راستوں پر رینجرز تعینات رہے۔ سردار اختر مینگل اور ان کے ملازمین کے خلاف درخشان تھانے پر درج مقدمہ نمبر ایک سو ستر میں ان کے خلاف سرکاری کام میں مداخلت کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے ۔
مدعی قربان حسین کے مطابق وہ فوج میں حوالدار ہیں اور اپنے نائیک فیاض کے ساتھ بدھ کی صبح کلفٹن پر ڈیوٹی پر مامور تھے کہ صبح سات بج کر پچپن منٹ پر خیابان کمرشل سے ایک کالے رنگ کی ڈبل کیبن وین فائیو فور ایٹ فائیو آئی جس میں سوار مسلح افراد نے انہیں زدو کوب کیا۔ ایف آئی آر کے مطابق اس دوران لال رنگ کی جیپ میں سوار سردار مینگل بھی وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے کہا کہ یہ فوج کے لوگ ہیں ان کو مارو۔ جس کے بعد مدعی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سردار عطااللہ مینگل نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈی آئی جی نے اختر مینگل کو بتایا ہے کہ ان کے ہتھیاروں کے لائسنس رد کیے گئے ہیں۔ سردار عطااللہ کے مطابق اختر مینگل نے پولیس کو کہا ہے کہ وہ گرفتاریاں درج کریں کیونکہ ایجنسیاں لوگوں کو گم کردیتی ہے اور ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ان کے بیٹے کے وکیل کو بھی ان کے گھر نہیں آنے دیا گیا۔ دوسری جانب کراچی کے بلوچ آبادی والے علاقوں میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کی اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا ہے۔ لیاری میں فائرنگ کے بعد کاروبار بند ہوگیا جبکہ کلاکوٹ اور ڈگری کالج کے علاقے میں کے ای ایس سی کی ایک گاڑی اور ایک موٹر سائیکل کو نذر آتش کیا گیا ہے۔
اس سے قبل سردار مینگل کے ملازمین نے بدھ کی صبح دو ’مشکوک‘ لوگوں کو پکڑا تھا جس کے بعد سکیورٹی فورسز نےگھر کوگھیرے میں لے لیا۔ محاصرہ کے دوران اختر مینگل کے پڑوس میں واقع گھروں کی چھتوں پر بھی پولیس اہلکار تعینات تھے جبکہ اختر مینگل اپنی گیلری میں ٹہلتے رہے اور چھت پر ان کے غیر مسلح ملازم موجود تھے۔ رینجرز اہلکاروں نے موقع پر پہنچنے والے اخباری فوٹوگرافروں کو محاصرے کی تصاویر لینے سے روک دیا اور ان کے کیمرے چھین لیئے۔ بی این پی کے سربراہ کی غیر اعلانیہ نظر بندی کے اطلاع پر ایم این اے رؤف مینگل، ایم پی اے اختر لانگو اور اختر میگل کے بھتیجے اور بھانجے بھی کوئٹہ سے کراچی پہنچ گئے اور گھر کے باہر موجود رہے۔ سردار اختر مینگل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ تین روز قبل موٹر سائیکل پر سوار سادہ کپڑوں میں ہیلمٹ پہنے دو افراد نے میرے بچوں کا سکول جاتے ہوئے پیچھا کیا، جس پر ڈرائیور ہوشیار ہوگیا۔ وہ لوگ پیچھا کرتے سکول پہنچ گئے جہاں کھڑے ہوکر انہوں نے غور سے بچوں کو دیکھا تو اس واقعہ کی اطلاع ڈرائیور نےگھر پر دی‘۔ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ سکول میں رینجرز ہیڈ کوراٹر سے فون کر کے یہ اطلاع دی گئی کہ سردار اختر کے دو بچے اغوا ہوگئے ہیں جس پر سکول کی پرنسپل نےگھر فون کر کے اس اطلاع کے بارے میں بتایا اور مجھے کوئٹہ میں یہ اطلاع دی گئی مگر بچے خیریت سے سکول میں تھے‘۔ سردار اختر نے بتایا کہ وہ کوئٹہ سے کراچی پہنچ گئے اور اس صورتحال کے پیشِ نظر بدھ کو جب وہ خود بچوں کو سکول چھوڑنے کے لیئے نکلے تو دو مشکوک افراد نے موٹر سائیکل پر ان کا پیچھا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں بچوں کو سکول چھوڑ کر واپس آیا تو وہ دونوں ہمارے گھر کی گلی میں آ کر رک گئے‘۔ اختر مینگل کے مطابق’میں نے جا کر ان سے پوچھا کہ تم کون ہو، تو ایک نے موبائل فون پر بات شروع کردی اور دوسرے نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔ جس پر ہمارے لوگ ان کو اپنے ساتھ لےکر آ گئے۔ دونوں مشکوک افراد نے اپنا تعارف ملٹری انٹیلیجنس کے حوالے سے کروایا اور اپنا نام قربان اور فیاض بتایا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد پولیس نے ہمارے گھر کو گھیرے میں لے لیا‘۔ بلوچ قوم پرست رہنما نے بتایا کہ ان کی ڈی آئی جی کراچی سے بات ہوئی تھی جن کا کہنا تھا کہ’یہ لوگ ایجنسی کے آدمی ہیں۔ ان کو چھوڑ دیں، پولیس واپس چلی جائےگی۔ ہم نے ان کو چھوڑ دیا مگر پولیس موجود رہی‘۔ سردار اختر کے مطابق کراچی میں روز لوگ مرتے اور اغوا ہوتے ہیں۔ کسی کے چہرے پر تو نہیں لکھا ہوتا کہ وہ ایجنسی کے لوگ ہیں۔ | اسی بارے میں ’مشرف بش کا غصہ ہم پر نکال رہا ہے‘15 March, 2006 | پاکستان خیر بخش مری کے گھر پر چھاپہ14 March, 2006 | پاکستان صوبائی خودمختاری دینا کتنا مشکل12 March, 2006 | پاکستان اچکزئی کےگھر پر چھاپہ، محافظ اغواء 08 February, 2006 | پاکستان ’دعووں کی تصدیق ممکن نہیں‘31 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||