مینگل کےگھر کے محاصرے پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں بلوچستان کے سابق وزیر اعلی سردار اختر مینگل کی رہائش گاہ کے محاصرے کے خلاف آج خضدار اور وڈھ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے کوئٹہ کراچی شاہراہ احتجاجاً بلاک کردی جبکہ کوئٹہ میں قائدین نے کل سے صوبے کی تمام شاہراہیں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ کوئٹہ کراچی شاہراہ آج دوپہر کے وقت خضدار اور وڈھ کے قریب بلاک کر دی گئی ہے جبکہ خضدار شہر میں محاصرے کی خبر پہنچتے ہی تمام دکانیں بند کر دی گئیں اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے احتجاج کیا ہے۔ جماعت کے سیکرٹری اطلاعات ثناء بلوچ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا ہے جس میں جمعرات سے غیر معینہ مدت کے لیے تمام شاہراہیں اجتجاجاً بلاک رکھی جائیں گی اور اس کے لیے کارکنوں کو ہدایات دے دی گئی ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے اجلاس کے بعد کوئٹہ پریس کلب کے سامنے صحافیوں کو بتایا کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ، کوئٹہ جیکب آباد شاہراہ، کوئٹہ تفتان شاہراہ اور گوادر کو کراچی سے ملانے والی ساحلی شاہراہ کو غیر معینہ مدت کے لیے بلاک رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریل گاڑیوں کی آمدو رفت کو بھی روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ ثناء بلوچ نے کہا کہ سردار اختر مینگل کی رہائش گاہ کو بجلی اور پانی تک ترسیل منقطع کر دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ نوشکی سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے لیڈر جہانزیب جمالدینی نے کہا ہے کہ جمعرات کو نوشکی میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی اور احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ ادھر ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی جماعت نیشنل پارٹی نے بلوچستان نیشنل پارٹی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مری اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ سردار اختر مینگل کی رہائشگاہ کا محاصرہ دراصل بلوچ قائدین کو دبانے کا ہی ایک سلسلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے نواب اکبر بگٹی اور نواب خیر بخش مری کو مختلف طریقوں سے زیر کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اب سردار مینگل پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں اختر مینگل کےگھر کا محاصرہ05 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||