BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 April, 2006, 16:50 GMT 21:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مینگل کے گرفتار ملازمین لاپتہ
اختر مینگل کی رہائش گاہ
اختر مینگل کی رہائش گاہ کا محاصرہ کر کے ان ملازمین کو حراست میں لیا گیا تھا
بلوچستان کے سابق وزیراعلٰی سردار اختر مینگل کے گھر سے گزشتہ شب حراست میں لیے گئے تین ملازمین پراسرار طور پر لاپتہ بتائے جارہے ہیں اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے ان افراد کی سلامتی کے لیے شدید خدشات ظاہر کیے ہیں۔

کراچی میں بلوچ قوم پرست رہنما اور بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل سمیت کئی لوگوں کے خلاف خفیہ ادارے کے ارکان کے اغوا اور ان پر تشدد کے الزام میں بدھ کی شب مقدمہ درج کیا گیا تھا اور پولیس نے ان کے تین ملازمین کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔

تاہم جمعرات کو گرفتار شدہ افراد کے بارے کچھ بھی نہیں بتایا جارہا تھا نہ ہی ان افراد کو ریمانڈ کے لیے پولیس حکام کی جانب سے کسی بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔

مقدمہ قربان حسین نامی ایک فوجی اہلکار کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جس کے مطابق فوج میں حوالدار قربان حسین اپنے نائیک فیاض کے ساتھ بدھ کی صبح کلفٹن پر ڈیوٹی پر مامور تھا کہ صبح سات بج کر پچپن منٹ پر خیابان کمرشل سے ایک کالے رنگ کی ڈبل کیبن وین میں سوار مسلح افراد نے انہیں زدو کوب کیا تھا۔

تاہم سردار اختر مینگل کے مطابق دونوں افراد نے سادے لباس میں ان کا تعاقب کیا تھا۔ تعاقب کرنے والوں کو اختر مینگل کے ملازمین نے روکا اور دونوں افراد نے خود کو ملٹری انٹیلی جنس کے اہلکاروں کے طور پر متعارف کرایا تھا۔

پولیس نے پورے دن سردار اختر مینگل کے ڈیفنس میں واقع گھر کا محاصرہ کر کے اختر مینگل اور ان کے ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کرکے تینوں افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔

لیکن جمعرات کو بی این پی کے رکن قومی اسمبلی عبدالرؤوف مینگل نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ سردار اختر مینگل کے ساتھ صبح جب درخشاں تھانے گرفتار لوگوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیئے گئے تو تینوں ملازمین وہاں نہیں تھے۔

عبدالرؤوف مینگل نے تینوں افراد کی سلامتی کے بارے میں شدید خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار ہونے والے کو ایجنسیوں نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ اب ان کی لاشیں ہی ملیں۔

دوسری جانب درخشاں پولیس اسٹیشن کے عملے کے مطابق گرفتار کیے گئے تینوں لوگوں کو پولیس کی انوسٹی گیشن برانچ کے حوالے کردیا گیا ہے جبکہ انوسٹی گیشن برانچ کے اہلکاروں نے تینوں افراد کے متعلق مکمل لاعلمی ظاہر کی ہے۔

پولیس کے اعلٰی افسران کوشش کے باوجود اس معاملے پر گفتگو کے لیے دستیاب نہیں تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد