1350 پاکستانی کراچی پہنچے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عمان سے ڈیپورٹ کیے گئے کل تیرہ سو باون پاکستانی بدھ کو کراچی پہنچ گئے ہیں اور ان سے حکومتی اہلکاروں نے تفتیش کی ہے۔ یہ تفتیش دوسرے روز بھی جاری رہے گی۔ دو لانچوں میں سوار یہ افراد سمندر کے راستے دو دن کا سفر طے کر کے کراچی کی بندرگاہ پر پہنچے جہاں وفاقی تحقیقاتی اداروں کے اہلکاروں نے ان سے پوچھ گچھ کی۔ غیرقانونی طریقے سے دبئی جانے کے خواہشمند ان افراد میں پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے رہائشی شامل ہیں جو ایجنٹوں کو پیسے دیکر بلوچستان کے رستے ایران کے ساحل پہنچے جہاں سے لانچ کے ذریعے دبئی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ سمندر میں تغیانی کے باعث دو دن کا سفر طے کرنے والے ان افراد کی حالت غیر تھی، وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے جبکہ پاؤں ننگے تھے۔ اس سے قبل غیرقانونی طریقے سے خلیجی ممالک جانے کے بعد واپس آنے والوں کو کاغذی کارروائی کے بعد آزاد کیا جاتا ہے مگر اس مرتبہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اعلیٰ حکام نے ان سے تفتیش کی، جس وجہ سے صبح ساڑہ بارہ بجے آنے والے یہ افراد بغیر کچھ کھائے پورٹ پر موجود رہے جبکہ دوسری لانچ کو کنارے دور کھڑا کیا گیا تھا۔
بدحالی میں آنے والے ان افراد کے لیے ایک مقامی غیرسرکاری تنظیم کی جانب سے کھانے پینے اور چپلوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ ایف آئی اے کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالمالک نے بی بی سی کو بتایا کہ مسقط سے آنے والے ان افراد کو حراست میں نہیں لیا گیا مگر ان کی ڈی بریفنگ لی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور، راولپنڈی اور کوئٹہ سے بھی حکام آئے ہوئے ہیں جو اپنے علاقوں کے لوگوں سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں اور فی فرد پر دس منٹ وقت لگتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جو لوگ ایجنٹ اور جانے کے مقصد کے بارے میں بتائیں گے انہیں گواہ بنایا جائے گا اور جو تعاون نہیں کرے گا اس کے خلاف امیگریشن قانون کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔ غیر سرکاری تنظیم انصار برنی ویلفیئر ٹرسٹ کے وائس چیئرمین صارم برنی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ لوگ اڑتالیس گھنٹے کا بھوک پیاس میں سفر طے کرکے پہنچے ہیں اور ابھی بھی انہیں بھوکا رکھا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لانچ میں لائف جیکٹس سمیت کوئی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے ضروری اشیاء نہیں تھیں، ایک لانچ میں چھ سو سے زائد لوگ سوار تھے اور اگر کوئی حادثہ ہوجاتا تو کوئی بھی زندہ نہیں رہتا۔ صارم کے مطابق صرف اس سال پانچ ہزار سے زائد لوگ بے دخل ہوکر آئے ہیں جبکہ گزشتہ چھ سال میں چالیس ہزار کے لگ بھگ لوگ آئے۔ یہ سلسلہ جاری ہے اس میں کمی کی ا ب تک کوئی امید نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ غیرقانونی طریقے سے جانے والے یہ افراد ان علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں غربت ہے روزگار کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ گزشتہ ایک عرصے سے مسقط سے پاکستانیوں کو واپس لانے والی انصار برنی ٹرسٹ کے وائس چیئرمین کے مطابق چالیس پچاس لوگ روزانہ مسقط میں داخل ہوتے ہیں اس میں پاکستان کے ساتھ ایران بھی ذمے دار ہے کیونکہ یہ لوگ وہاں سے داخل ہو رہے ہیں، اگر ایرانی حکومت ان کو سرحد پر پکڑ کر پاکستان کے حوالے کرے تو بہتری آسکتی ہے۔ | اسی بارے میں سری لنکا سے وطن واپسی11 October, 2003 | پاکستان ایک سال: بیس ہزار پاکستانی ملک بدر30 November, 2004 | پاکستان عمان سے 758 پاکستانی وطن واپس29 December, 2004 | پاکستان ’چوبیس ہزار پاکستانی ملک بدر‘09 February, 2005 | پاکستان مسقط سے 700 پاکستانی بے دخل28 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||