مسقط سے 700 پاکستانی بے دخل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسقط کی جیلوں سے مزید سات سو پاکستانی قید رہائی پا کر کراچی پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے یہ قیدی مسقط سے المحمدی لانچ کے ذریعے کراچی کے گھاس بندر پہنچے جہاں ان سے ایف آئی اے حکام نے پوچھ گچھ کی۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد جن کے بعد ان کو اپنے گھروں کی جانب جانے کی اجازت دے دی گئی۔ بغیر پاسپورٹ اور ویزے غیر قانونی طریقے سے خلیجی ممالک جانے والے ان افراد کی وطن واپسی کا انتظام انصاربرنی ٹرسٹ کا جانب سے کیا گیا تھا۔ انصار برنی ٹرسٹ کے صارم برنی نے بتایا کہ واپس آنے والوں میں زیادہ تر کا تعلق پنجاب سے تھا۔ ان کو ایجنٹ سہانے خواب دکھاکر ہزاروں روپے بٹورتے ہیں۔ اس کے بدلے ان کی جانوں کا سودا کرتے ہیں۔ صارم برنی کے مطابق انسانی اسمگلنگ میں پاکستانیوں کے ساتھ ایرانی ایجنٹ بھی ملوث ہیں۔ جنہیں اس بات کا علم ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح ان لوگوں کو بارڈر کراس کردینگے۔ واپس آنے والے تمام پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ وہ اچھے روزگار کی تلاش میں تیس سے پینتیس ہزار دیکر دوبئی جانے کے لیے نکلے تھے مگر راستے میں عمان میں انہیں پکڑا لیا گیا۔ صارم برنی کے مطابق اس سال بارہ ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے ڈیپٹی ڈائریکٹر محمد مالک کے مطابق یہ لوگوں پہلے ہی جیل کاٹ کر آتے ہیں اس لیے انہیں گرفتار نہیں کیا جاتا۔ کسی بھی جرم میں کسی تو دو مرتبہ دب سزا نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ذریعے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں تک رسائی کی کوشش کی جاتی۔اس سال ہم نے پچانوی کے قریب ایجنٹ گرفتار کئے ہیں۔ | اسی بارے میں سری لنکا سے وطن واپسی11 October, 2003 | پاکستان ایک سال: بیس ہزار پاکستانی ملک بدر30 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||