پسند کی شادی پر جان کے لالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ پنجاب اور سندھ کے سرحدی علاقہ کے لوگ ایک ایسی کشیدگی کا شکار ہیں جو ان کے خیال میں کسی بھی وقت کسی بڑی مشکل کا سبب بن سکتی ہے۔ ہوا یوں ہے کہ ضلع گھوٹکی کے ایک دیہات میں رہنے والے شر بلوچ قبیلہ کے ایک تئیس سالہ خان نامی شخص اور گل زرین نامی پشتو بولنے والی افغانی خاتون نے ایک دوسرے کو پسند کر کے اپنے علاقے سے دور شکارپور کی ایک عدالت میں پیش ہوکر نکاح کرنے کا اعلان کر دیا۔ لڑکی چونکہ پٹھان ہے اور علاقے میں کارو کاری کی قبیح رسم پر بھی عمل درآمد کیا جاتا ہے، اس لیئے اس علاقے میں آباد اور پنجاب اور سندھ کے کئی علاقوں کے پٹھان اپنے اپنے ا سلحہ کے ساتھ علاقے میں جمع ہو گئے ہیں۔ پٹھان یوں بھی اس طرح کے واقعہ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ لڑکی کے ورثا نے گھوٹکی کے قریب پنجاب کی حدود میں لڑکی کو شادی شدہ قرار دے کر اس کو اغوا کرنے کی رپورٹ درج کرائی اور لڑکی اور لڑکے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ واقعہ کے بعد ردعمل کے خوف میں علاقہ میں آباد شر قبیلہ کے لوگوں نے اپنے گاؤں خالی کر دیئے اور غائب ہو گئے۔ کئی روز بعد وہ لوگ کوٹ سبزل تھانے پر رونما ہوئے تو پولیس نے صرف اتنا کہا کہ لوگ مل گئے ہیں۔ یہ لوگ کہاں چلے گئے تھے، کیوں گئے تھے، کسی نے اغوا کیا تھا؟ ان سوالات کے جواب پولیس فراہم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ ان واقعات نے علاقے میں کشیدگی پیدا کر دی ہے ۔ ایک طرف مسلح افراد کے جتھے عدالتوں سمیت شہری اور دیہی علاقوں میں لڑکا لڑکی کو تلاش کر رہے ہیں اور دوسری طرف جمعرات کی شام لڑکی کے ورثا اور ان کے مددگاروں نے کوٹ سبزل میں ہی ایک پریس کانفرنس بھی کی جس میں گھوٹکی کے اخبار نویسوں کو مدعو کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر لڑکی واپس نہ کی گئی تو وہ نہ صرف قومی شاہراہ پر طویل دھرنا دیں گے بلکہ شر قبیلہ کے سردار احمد یار خان اور لڑکے کے خاندان سے بدلہ لیں گے۔ پریس کانفرنس میں غلام رسول اور عمر خان اور دیگر نے کہا کہ وہ اپنے رواج کے مطابق شادی شدہ یا کنواری لڑکی کے فرار کی صورت میں اسے قتل کرتے ہیں۔ اگر عورت کو زبردستی لے جایا گیا ہو تو اس کے ساتھ لے جانے والے مرد کو بھی قتل کرتے ہیں۔
جمعرات کی علی الصبح خان نے بی بی سی کو فون کر کے بتایا کہ لڑکی کے ورثا اور ان کے قبیلے کے لوگوں نے چالیس لاکھ روپے کا چندہ جمع کر کے اعلان کیا ہے کہ جو شخص بھی ’لڑکا لڑکی کو قتل کرے گا اسے انعام میں یہ رقم دے دی جائے گی‘۔ گل زرین نے بھی فون پر بات کی اور بار بار مدد کرو کی اپیل کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے اپنی پسند سے خان کے ساتھ نکاح کیا ہے‘۔ لیکن بقول ان کے ’پٹھان لوگ ان کی جان کے پیچھے پڑ گیا ہے‘۔ یہ نوبیاہتا جوڑا بقول خان، علاقہ میں اس طرح گھر گیا ہے کہ وہ نہ تو رحیم یار خان کی عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں اور نہ ہی سندھ ہائی کورٹ کے سکھر، لاڑکانہ یا کراچی بنچ کے رو برو۔ اخبار نویسوں کا کہنا ہے کہ پورے علاقہ میں خصوصاً شر قبیلہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو غیر معمولی کشیدہ صورتحال کا سامنا ہے ۔ اخبار نویس کہتے ہیں کہ کہ مسلح افراد کا علاقے میں دندناتے پھرنا کسی خطرناک تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔ سندھ پولس نے مسلح افراد کو بقول ایک افسر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ چونکہ واقعہ پنجاب کی حدود میں ہوا ہے اس لیئے وہ ضلع گوٹھکی میں بدامنی پھیلانے سے باز رہیں لیکن یہ تنبیہ بھی کام نہیں کرسکی ہے کیونکہ ان افراد کو یقین ہے کہ خان شر اور گل زرین گھوٹکی کے ہی کسی دیہات میں پناہ لیئے ہوئے ہیں۔ ریاست کی پولیس، عدالت، ضلع ناظمین یا پھر سول سوسائٹی کے لوگ اور این جی اوز اس نوجوان نو بیاہتے جوڑے کو بچانے کے لیئے اب تک عملاً کوئی قدم نہں اٹھا سکے ہیں حالانکہ تمام لوگ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ گزرنے والا ہر لمحہ خان اور گل زرین کو زندگی سے دور کر رہا ہے ۔ اور جمع کی صبح دو بجے جس وقت میں یہ کالم مکمل کر رہا ہوں، میرے کانوں میں گل زرین کی آواز زیادہ تیزی سے گونج رہی ہے کہ ’ہمارا مدد کرو‘۔ |
اسی بارے میں پسند کی شادی: میاں بیوی قتل18 May, 2005 | پاکستان پسند کی شادی کرنے والے رہا22 April, 2006 | پاکستان پنچایت کے فیصلہ دو خواتین اغوا06 March, 2006 | پاکستان پاکستان: پسند کی شادی کا حق ہے13 February, 2006 | پاکستان عالمانی کے ہاں بیٹے کی پیدائش05 January, 2005 | پاکستان کاروکاری قتل تصور ہو گا 26 October, 2004 | پاکستان پیار کی شادی: ہائی کورٹ کے باہرقتل06 September, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||