BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 April, 2006, 00:29 GMT 05:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پسند کی شادی کرنے والے رہا

اوکاڑہ
ارونا کا تعلق اوکاڑا سے ہے، لیکن شادی کے بعد وہ حیدرآباد چلی گئی تھیں۔
اوکاڑہ کے ایک عدالتی مجسٹریٹ نے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی، اس کے شوہر اور اس کے دیور پر زنا اور اغوا کے مقدمات ختم کرکے انہیں رہا کردیا ہے۔ ان تینوں کو سندھ کے شہر حیدرآباد سے گرفتار کرکے اوکاڑہ لایا گیا تھا۔

اوکاڑہ کی لڑکی ارونا پر پسند کی شادی کرنے پر ان کے والد نے اوکاڑہ صدر پولیس میں زنا حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا اور ان کے شوہر معظم اور دیور جنید پر اغوا کا مقدمہ درج کرایا تھا۔

ارونا کے والد ایک ریٹائرڈ سول جج ہیں اور شوہر حیدرآباد میں ٹیلی فون کمپنی پی ٹی سی ایل میں ملازم ہیں۔

جمعرات کو حیدرآباد کے ایک سول جج اور مجسٹریٹ نے ارونا، ان کے خاوند اور ان کے دیور کی گرفتاری کا حکم جاری کرتے ہوئے انہیں تین دن کے ریمانڈ پر اوکاڑہ پولیس کے حوالے کیا تھا۔ ارونا نے جمعرات کو حیدرآباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی پسند سے معظم کے ساتھ گزشتہ سال گیارہ اگست کو شادی کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنی مرضی سے رہ رہی ہیں اور ان کے خاوند نے انہیں اغوا نہیں کیا جیسا کہ الزام لگایاگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والدین انہیں بہلا پھسلا کر ایک دفعہ اوکاڑہ لے گئے تھے اور ان پر دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ کسی اور شخص سے شادی کریں۔

ارونا کا کہنا تھا کہ اگر انہیں اوکاڑہ بھیجا گیا تو انہیں اپنی جان کا خطرہ ہے۔ جب پنجاب پولیس نے اورنا اور ان کے خاوند کو حیدرآباد میں اپنی تحویل میں لیا تو سندھ پولیس کی طرف سے ان کی حفاظت پرمعمور لیڈی کانسٹیبل کو راستے میں اتار دیا تھا۔

انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان نے حیدرآباد کے مجسٹریٹ کے فیصلہ پر تنقید کی تھی۔

جمعہ کو پولیس نے ارونا اور اس کے خاوند معظم کو اوکاڑہ میں مقامی مجسٹریٹ ملک مدثر کے سامنے پیش کیا۔ میجسٹریٹ نے فیصلہ دیا کہ ارونا اور ان کے خاوند پر الزامات ثابت نہیں ہوتے اس لیے انہیں رہا کردیا جائے۔

دوسری طرف سندھ ہائی کورٹ نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ارونا اوراس کے خاوند کو عدالت عالیہ میں پیش کرنے کا حکم جاری کیا تھا اور پنجاب اور سندھ حکومتوں سے رپورٹ طلب کرلی تھی۔

ارونا اور ان کے خاوند جمعہ کو اوکاڑہ پولیس سے رہائی کے بعد حیدرآباد کے لیے روانہ ہوگئے۔

اسی بارے میں
ونی :سپریم کورٹ میں سماعت
24 February, 2006 | پاکستان
شادی میں کھانا، وارنٹ جاری
06 January, 2006 | پاکستان
شادی کی عمر، سولہ نہیں بائیس
13 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد