شادی کی عمر، سولہ نہیں بائیس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماضی میں پاکستانی معاشرے خصوصًا اردو ادب اور فلموں میں سولہ سالہ دوشیزہ کا ذکر کچھ اس طرح ہوتا تھا گویا پاکستان کی صنف نازک کی پوری زندگی میں یہی سال اس کی شادی کے لیے موزوں ہوتا ہو گا۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری میں کئی ایسی ہیروئنیں گزری ہیں جو فلموں میں دس سال ہیروئن کا کردار ادا کرنے کے باوجود بھی اپنے آپ کو سولہ سال کی کہتی رہیں۔ کیا اب بھی ایسا ہی ہے؟۔ جی قطعی نہیں، پاکستان کے فیڈرل بیورو آف سٹیٹسٹکس کے ایک تازہ ترین سماجی سروے کے مطابق پاکستان میں خواتین اب سولہ نہیں، بیس نہیں بلکہ اوسطاً بائیس سال تین مہینے کے بعد شادی کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ سروے کے مطابق یہ اوسط عمر چار دہائیوں میں سولہ سال سات ماہ سے بڑھ کر بائیس سال سے اوپر پہنچی ہے۔
اس سروے کےمطابق اب پندرہ سے انیس سال تک کی خواتین کی ستاسی فی صد تعداد غیر شادی شدہ ہے جبکہ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں یہ تعداد پچیس فی صد تھی۔ جبکہ مردوں کی شادی کی اوسط عمر چھبیس سال چار ماہ بتائی گئی ہے۔ وفاقی ادارے کے ایک عہدیدار کے مطابق خواتین کی شادی کی اوسط شرح میں اضافے کی وجہ خواتین کی بڑھتی ہوئی تعلیمی قابلیت اور معاشرے کا ماحول ہے جو اب بدل رہا ہے۔ ادارے کے مطابق والدین بھی اب لڑکیوں کی کم عمر میں شادیوں کے خلاف ہیں۔
اسی سروے کے مطابق پاکستان میں عورتوں کی اوسط عمر مردوں سے دو سال زیادہ ہوتی ہے۔ مردوں کی اوسط عمر چونسٹھ جبکہ خواتین کی اوسط عمر چھیاسٹھ سال بتائی گئی ہے۔ اس سروے میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ایک فی صد سے کم خواتین غیر شادی شدہ ہیں جبکہ غیر شادی شدہ مردوں کی تعداد ایک اعشاریہ سات فی صد ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||