بارہ سالہ بچی کے پانچ شوہر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے ضلع دادو میں ایک بارہ سالہ لڑکی بار بار فروخت ہونے اور خریدے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اب معاملہ عدالت میں پہنچ گیا ہے اور عدالت نے پٹھانی پنہور نامی اس لڑکی کو ورثاء کے حوالے کر تے ہوئے شوہر ہونے کا دعویٰ کرنے والے پانچوں افراد کث سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ پٹھانی اور اس کے والد کو تنگ نہ کریں۔ پٹھانی پنہور نامی ایک لڑکی کے والد امین پنہور نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج دادو سے درخواست کی تھی کہ اس کی بیٹی سے ایک شخص ماسٹر عزیز پنہور نے اغوا کرکے شادی کرلی ہے۔ عدالت کے حکم پر دادو پولیس نے ماسٹر عزیز کےگھر پر چھاپہ مارا اور اسے گرفتار کرکے لڑکی کو برآمد کرلیا۔ لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ عزیز پنہور نے اسے اغوا کیا اور پھر اس سے زبردستی شادی کی اور یہ بھی کہ وہ اسے تشدد کا نشانہ بھی بناتا ہے۔ لڑکی کے والد امین پنہور نے عدالت کو بتایاکہ عزیز نے اس کےگھر پر حملے کر کے پٹھانی کو اغوا کیا تھا۔ شوہر ہونے کے دعویدار عزیز پنہور نے عدالت کو بتایا کےاس نے پٹھانی کا رشتہ نوے ہزار روپےمیں خریدا تھا اور پٹھانی سے اس کا نکاح اس کے والد کی موجودگی میں ہوا تھا۔ صورتحال اس وقت اور بھی دلچسپ ہوگئی جب مزید چار افراد عدالت پہنچے اور دعویٰ کیا کہ وہ بھی پٹھانی کے شوہر ہیں۔
علی گل، حکیم، غلام نبی اور قاسم پنہور نامی ان افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے مختلف وقتوں پر دلال کی معرفت یہ پٹھانی کا رشتہ خریدا تھا۔ اورانہیں ایک نابالغ لڑکی دکھاکر سودا کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ شادی کے لیے انتظار کیا جائے۔ لڑکی کے والد نے ان چاروں افراد کے دعوؤں کوغلط قرار دیا۔ جس کے بعد لڑکی کو ان کے حوالے کر دیا گیا۔ لڑکی کے والد نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کہ چار سال قبل پٹھانی کو اس کے دادا نے قرضہ اتارنے کے لیے ایک پچہتر سالہ بوڑھے شخص کے ہاتھ فروخت کیا تھا لیکن بعد میں یہ رقم ادا کرکے لڑکی کو واپس حاصل کر لیا گیا تھا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد امین پنہور دادو چھوڑ کر اپنے نواحی گاؤں منتقل ہوگیا ہے۔ دادو پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد نے لوگوں سے فراڈ کیا ہے۔ ماسٹر عزیز احمد کا کہنا ہے کہ اسے دھوکہ دیا گیاہے اور وہ بیوی پٹھانی کو حاصل کرنے کے لئے عدالت سے رجوع کرےگا¬۔ ان کا کہنا ہے کہ پٹھانی کے ورثا ان کے پاس پیسوں کی ضرورت کی وجہ سے آئے تھےاور پیسوں کے بدلے انہوں نے رشتہ دیا تھا۔
ادھر شوہر ہونے کے چار دوسرے دعویداروں کا کہنا ہے کہ وہ بھی اپنی رقوم وصول کریں گے۔ سماجی کارکن عبدالشکور عباسی کا کہنا ہے کہ پیسے لیکر رشتہ دینے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ جس کسی کو اپنی برادری سے رشتہ نہیں ملتا وہ رشتہ خریدنے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض ایسے کیس بھی سامنے آئے ہیں جں میں لوگوں نے اپنی شادی رچانے کے لیے اپنی بیٹیوں یا بہنوں کو فروخت کر دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||