BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 June, 2004, 21:17 GMT 02:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارہ سالہ بچی کے پانچ شوہر

پٹھانی
پٹھانی پنہور اپنے والد والدہ اور چھوٹے بھائی کے ساتھ
سندھ کے ضلع دادو میں ایک بارہ سالہ لڑکی بار بار فروخت ہونے اور خریدے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

اب معاملہ عدالت میں پہنچ گیا ہے اور عدالت نے پٹھانی پنہور نامی اس لڑکی کو ورثاء کے حوالے کر تے ہوئے شوہر ہونے کا دعویٰ کرنے والے پانچوں افراد کث سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ پٹھانی اور اس کے والد کو تنگ نہ کریں۔

پٹھانی پنہور نامی ایک لڑکی کے والد امین پنہور نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج دادو سے درخواست کی تھی کہ اس کی بیٹی سے ایک شخص ماسٹر عزیز پنہور نے اغوا کرکے شادی کرلی ہے۔

عدالت کے حکم پر دادو پولیس نے ماسٹر عزیز کےگھر پر چھاپہ مارا اور اسے گرفتار کرکے لڑکی کو برآمد کرلیا۔

لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ عزیز پنہور نے اسے اغوا کیا اور پھر اس سے زبردستی شادی کی اور یہ بھی کہ وہ اسے تشدد کا نشانہ بھی بناتا ہے۔

لڑکی کے والد امین پنہور نے عدالت کو بتایاکہ عزیز نے اس کےگھر پر حملے کر کے پٹھانی کو اغوا کیا تھا۔

شوہر ہونے کے دعویدار عزیز پنہور نے عدالت کو بتایا کےاس نے پٹھانی کا رشتہ نوے ہزار روپےمیں خریدا تھا اور پٹھانی سے اس کا نکاح اس کے والد کی موجودگی میں ہوا تھا۔

صورتحال اس وقت اور بھی دلچسپ ہوگئی جب مزید چار افراد عدالت پہنچے اور دعویٰ کیا کہ وہ بھی پٹھانی کے شوہر ہیں۔

پٹھانی
بچی نے عدالت کو بتایا کہ اسے اغوا کیا گیا تھا اور اسے تشدد کا نشانہ بھح بنایا گیا

علی گل، حکیم، غلام نبی اور قاسم پنہور نامی ان افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے مختلف وقتوں پر دلال کی معرفت یہ پٹھانی کا رشتہ خریدا تھا۔ اورانہیں ایک نابالغ لڑکی دکھاکر سودا کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ شادی کے لیے انتظار کیا جائے۔

لڑکی کے والد نے ان چاروں افراد کے دعوؤں کوغلط قرار دیا۔ جس کے بعد لڑکی کو ان کے حوالے کر دیا گیا۔

لڑکی کے والد نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کہ چار سال قبل پٹھانی کو اس کے دادا نے قرضہ اتارنے کے لیے ایک پچہتر سالہ بوڑھے شخص کے ہاتھ فروخت کیا تھا لیکن بعد میں یہ رقم ادا کرکے لڑکی کو واپس حاصل کر لیا گیا تھا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد امین پنہور دادو چھوڑ کر اپنے نواحی گاؤں منتقل ہوگیا ہے۔

دادو پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد نے لوگوں سے فراڈ کیا ہے۔

ماسٹر عزیز احمد کا کہنا ہے کہ اسے دھوکہ دیا گیاہے اور وہ بیوی پٹھانی کو حاصل کرنے کے لئے عدالت سے رجوع کرےگا¬۔

ان کا کہنا ہے کہ پٹھانی کے ورثا ان کے پاس پیسوں کی ضرورت کی وجہ سے آئے تھےاور پیسوں کے بدلے انہوں نے رشتہ دیا تھا۔

پٹھانی
یہ تینوں افراد بھی عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے بارہ سالہ بچی کے شوہر ہونے کا دعویٰ کیا

ادھر شوہر ہونے کے چار دوسرے دعویداروں کا کہنا ہے کہ وہ بھی اپنی رقوم وصول کریں گے۔

سماجی کارکن عبدالشکور عباسی کا کہنا ہے کہ پیسے لیکر رشتہ دینے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ جس کسی کو اپنی برادری سے رشتہ نہیں ملتا وہ رشتہ خریدنے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض ایسے کیس بھی سامنے آئے ہیں جں میں لوگوں نے اپنی شادی رچانے کے لیے اپنی بیٹیوں یا بہنوں کو فروخت کر دیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد