کوئٹہ: 26 جوڑوں کی اجتماعی شادی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں پہلی مرتبہ اجتماعی شادیوں کی تقریب منعقد ہوئی ہے جس میں بیس مسلمان اور چھ غیر مسلم جوڑوں کو رخصت کیا گیا ہے۔ بلوچستان میں اس نوعیت کی پہلی تقریب تھی جس میں دلہنوں اور دولہوں کے علاوہ ان کے عزیز و اقارب موجود تھے۔ مسلمان دلہنوں نے سرخ پیلے اور نیلے عروسی لباس پہن رکھے تھے جبکہ عیسائی دلہنوں نے روایتی سفید لباس زیب تن کیے ہوئے تھے۔ اکثر دلہنوں نے چہرے چھپا رکھے تھے۔ اس موقع پر بیاہی جانے والی ایک دلہن کے مطابق کافی ساری لڑکیاں معاشی تنگی کی وجہ سے شادی نہیں کر سکتیں اس طرح کی تقریب ایسے خاندانوں اور لڑکیوں کے لیے بہتر ہیں تاکہ وہ اپنے گھر آباد کر سکیں۔ ایک دولہا نے بتایا کہ وہ مزدوری کرتا ہے اور دہاڑی ایک سو بیس روپے ملتے ہیں اور ان میں وہ اپنے بہن بھائیوں کی روٹی دے یا خود شادی کرے۔ ایک دولہا کے والد امان اللہ خان نے کہا ہے کہ اس طرح کی تقریب اچھی تو ہے لیکن اس میں نئے جوڑوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے مالی امداد دینا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کے نو بیٹے اور بیٹیاں ہیں شادی ایک کی بھی نہیں ہوئی۔ پہلے بیٹے کے شادی ہو رہی ہے سرکاری سطح پر جہیز میں جو پلنگ ملا ہے وہ ہمارے گھر کے ایک کمرے کے برابر ہے اب سوچ رہے ہیں کہ خود رہیں یا پلنگ رکھیں۔ صوبائی وزیر سماجی بہبود بیگم پروین مگسی نے کہا ہے کہ انھوں نے ایسے سو جوڑوں کی شادی کی تجویز دی تھی۔ پہلے مرحلے میں چھبیس جوڑوں کی شادی ہو رہی ہے اس کے بعد اس ماہ کے آخر میں اس طرح کی ایک اور تقریب ہو گی۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس کے لیے چھیاسٹھ لاکھ روپے منظور ہو ئے ہیں۔ اس وقت ہر جوڑے کو ساٹھ ہزار روپے مالیت کا سامان دیا جا رہا ہے جس میں ایک سونے کا سیٹ فرنیچر اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء شامل ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا ہے کہ اس تقریب کا مقصد ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو خود شادی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||